ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 144 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 144

 میں تعظیم الٰہی ہے اور زکوٰۃ میں مخلوق سے ہمدردی ہے۔جو کچھ کرو گے۔اللہ تعالیٰ سے اجر پائو گے۔وہ داناو بینا ہے۔۹؎ رکوع ۱۴ جب کوئی کسی کا دشمن ہو جاتا ہے تو اس کی کسی خوبی کا قائل نہیں رہتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب کوئی ایسی چیز ہوتی ہے کہ جس میں کچھ بھی خوبی اور کوئی بھی فائدہ نہ ہو تو ہم اُس کو دنیا میں رہنے نہیں دیتے جیسے فرمایا۔(الرعد :۱۸)۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود کا نصاریٰ کو یہ کہنا کہ یہ کچھ بھی نہیں اور نصاریٰ کا یہود کو یہ کہنا یہ کچھ نہیں عداوت پر مبنی ہے۔اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یہ یہود و نصاریٰ ہی سے متعلق نہیں بلکہ فرمایا۔ یعنی جو کوئی بھی ایسا کہے وہ سب اسی بنا پر مبنی ہے۔پھر قرآن میں سب سے بڑا سبب عداوت کا (الانعام :۴۵) لکھا ہے یعنی جب لوگ قرآن کریم یا کتاب اللہ کو چھوڑ دیتے ہیں تو اُن میں بغض و عداوت پڑ جاتی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آجکل جو مسلمانوں میں باہم ناچاقی کی وبا پھیلی ہوئی ہے تو اس کا سبب قرآن کو پس پشت ڈال دینا ہے۔مسلمانوں میں پہلے یہ وبا شروع ہوئی تو جبر وقدر کا جھگڑا شروع ہوا پھر خوارج کا پھر شیعوں کا۔میں کہتا ہوں کہ انہوں نے قرآن کریم کو چھوڑ کر جبر وقدرکو کیوں چھیڑا۔میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کسی کو ردّی نہیں سمجھتا۔اس جھگڑے کو بھی مفید ہی سمجھتا ہوں۔میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھ کو ہر گز کسی سے بھی بغض نہیں حتیٰ کہ شیطان سے بھی نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ نے اس کو بھی کسی غرض سے ہی پیدا کیا ہے۔بھوپال میں میرے اُستاد مولوی عبدالقیوم صاحب تھے۔جب میں اُن سے رخصت ہونے لگا تو میں نے کہا کہ مجھے کوئی ایسی بات بتلائیے کہ جس سے میں ہمیشہ ہی خوش رہوں۔فرمایا کہ تم اپنے آپ کو خدا اور رسول نہ سمجھنا۔میں نے عرض کیا کہ بھلا میں اپنے آپ کو خدا اور رسول کیسے سمجھ سکتا ہوں۔