ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 143 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 143

ذو معنی الفاظ بھی استعمال نہ کیا کرو۔د یکھو رَاعِنَا ایک دو رُخہ لفظ ہے تم محمد رسول اللہ (ﷺ)کے سامنے یہ لفظ بھی مت بولاکرو کیونکہ یہود کی زبان میں اس کے کچھ اچھے معنے نہیں ہیں۔اس کی بجائے تم اُنْظُرْنَا کہا کرو۔۔یُحِبُّ ۔یہ منکر اہل کتاب چاہتے ہی نہیں کہ تم پر کوئی مکرم چیز اُتاری جائے۔اُ۔آپ ہماری طرف توجہ فرماویں۔آپ ہم پر نظر عنایت فرماویں۔۔مسلمانوں کو روکا توپھر یہودیوں کو بھی رُکنا پڑا۔حدیث میں ہے کہ عشاء کے واسطے عَتَمَۃً کا لفظ نہ بولو کیونکہ یہ جنگلیوں کا لفظ ہے۔نُنْسِ۔بھلا دیتے ہیں۔چھوڑ دیتے ہیں۔۔جو کچھ ہم کھو دیں یا بھول جائیں مٹا دیں۔خدا ہم کو اُس سے بہتر دے سکتا اور سکھلا سکتا ہے۔قرآن شریف میں کوئی ایسا حکم نہیں جو منسوخ ہو چکا ہے اور اس پر عمل کرنا اس وقت ممنوع ہو۔۔ہم دنیا کے کچھ مذاہب کو مٹا دیں گے۔۔اللہ تعالیٰ اس وقت ایک شخص کو خصوصیت دے رہا ہے۔۔باطل کرنا، ازالہ کرنا، نقل کرنا، حالتوں کو بدل دینا۔توریت و انجیل کا اصل نہیں ملتا۔مٹ گئیں۔اُن کی جگہ ان سے اعلیٰ و افضل تریں کتاب یعنی قرآن شریف عطا کیا گیا۔۔نشان، عبرت، ایک فقرہ قرآنی، ( نبی )۔ کے یہ معنے ہوئے کہ اس کو اس طرح سے مٹاد ے کہ نام و نشان تک بھی باقی نہ رہے۔رسول اللہ ﷺ نے تمام عربی اقوام کے رسم و رواج، اخلاق و عادات میں کیسی تبدیلی پیدا کر دی۔شرک کو بالکل مٹا کر وحدانیت کو پھیلا دیا۔