ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 142 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 142

۔پھر کفر کا ار تکاب نہ کرنا۔تعلیم کے خلاف نہ کرنا۔۔سیکھتے ہیں اُن دونوں فرشتوں سے۔یہاں پر خدا تعالیٰ حضرت نبی کریم ﷺ کے دشمنوں کوجو خفیہ خفیہ آپ کو تباہ کرنے کی تجویزیں اور تدبیریں کرتے تھے یہ بتلاتا ہے کہ دیکھو تم نے محمد رسول اللہ کے تباہ کرنے کی وہی روش اختیار کی ہے جو دانیال اور حزقیل کی اقوام نے ظالم بابلیوں کو تباہ کرنے کے لئے کی تھی۔تو یاد رکھو کہ تم اس سے محمد رسول اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ خدا کا منشاء نہیں ہے کہ اس کو ضرر پہنچے۔پھر دانیال اور حزقیل کی قوموں کو مظلوم ہونے کے سبب سے ہماری جانب سے یہ حکم ہوا تھا۔تب شہر بابل کے ظالم مفتوح ہوئے۔یہاں پر تو معاملہ ہی برعکس ہے یعنی تم خود ظالم ہو اور پھر خدا کے نیک اور متقی بندوں کی جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہو۔خدا سے تم کو اس قسم کا کوئی حکم بھی نہیں آیا۔اُس میں خدا اُن کا مدد گار تھا مگر یہاں پر خدا تم سے بیزار ہے۔تو کیا تم ایک اللہ تعالیٰ کے رسول کے مقابلہ میں کامیاب ہو جائو گے؟ نہیں۔یاد رکھو کہ جس طرح یہاں پر معاملہ برعکس ہے اسی طرح تم ان تجاویز سے اُن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے بلکہ اُ لٹا تمہیں کو نقصان پہنچے گا۔اس لئے فرمایا۔۔رکوع ۱۳ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے قوتیں ترقی کرنے کے لئے رکھی ہیں۔او رمنشاء اُن کا یہ ہے کہ ایک دوسرے پر بڑھو اور ترقی کرو ایک آدمی دوسرے سے بڑھتا چلا جائے۔یہ فطرت انسان کی تمام ترقیات کے لئے رکھی گئی ہے۔لیکن بعض لوگ ناجائز استعمال کرکے حسد سے کام لیتے ہیں۔ایک شخص جو خوش چلن ، نیک اور خوش رہنے والا ہو اُس سے اُن باتوں میں ترقی کرنے کے بجائے حسد کرتے ہیں۔حسد کی صفت کو ناجائز استعمال کر کے اس کے منافع سے محروم رہتے ہیں۔نیکیوں میں رشک کرنا مفید ہو سکتا ہے۔حسد کو جب ناجائز استعمال کرتے ہیں تو محسود کی نسبت بُرے الفاظ زبان سے نکالتے ہیں۔ا للہ جلشانہ اس رکوع شریف میں فرماتا ہے کہ ایمان والو! لوگ دغا، فریب اور حسد کے وقت برے برے الفاظ استعمال کیا کرتے ہیں۔تم کو چاہئے کہ تم ایسے دو رخے