ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 138
ملت ابراہیم کے خلاف ہو۔یہ معنے بھی ہیں کہ ہمارے دل غلافوں میں ہیں۔لَعَنَ۔دھتکارا ہوا۔علم پر عمل نہ کرنا اور پاک بندوں سے مخالفت کرنا غضب ہے۔۔اور پہلے اس آنے والے رسولوں کے متعلق خوب کھول کھول کر بیان کرتے تھے۔باب استفعال مبالغہ کے لئے بھی آتا ہے۔یہ بھی معنے ٹھیک ہیں کہ آپ کے نام سے ہی فتح طلب کرتے تھے۔۔تم نے کس لئے اللہ کے انبیاء کو قتل کیا جو پہلے آئے۔میرے خیال میں یہ تو صاف ظاہر ہے کہ انبیاء تو قتل نہیں ہوئے۔میرے نزدیک قتل کے معنے سخت مقابلہ کے ہیں۔۔بڑی قوت سے اس پر عمل کرو۔۔اچھا تو یہ بتائو کہ آخرت پر ایمان لاتے ہوا ور اپنے آپ کو کامیاب ہونے والا سمجھتے ہو تو آئو ایک فیصلہ کن جنگ کر لو مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ زندگی کے بڑے شائق ہیں۔مگر یہ یاد رہے کہ بڑی عمر پانا عذاب سے نہیں بچا سکتا۔رکوع ۱۲ مباحثات سے بہت بچنا چاہئے۔مباحثات میں ابتداء کبھی نہ کرے ابتدا ء کسی اور کی طرف سے ہونی چاہئے۔جب ابتدا اپنی طرف سے نہ ہو تو خدا تعالیٰ ضرور مدد کرتا ہے۔۔تو کہہ دے جو جبر۱ئیل کا عدو ہے …… کہتے ہیں کہ کچھ یہودی مدینہ میں آئے اور نبی کریم سے مباحثہ کیا ا ور مباحثہ میں کہا کہ کیا ثبوت ہے کہ آپ کو الہامات ہوتے ہیں۔آپ نے جواب دیا کہ وہی ثبوت ہے جو حضرت موسیٰ کے لئے الہام کا ثبوت ہے۔ا یک جگہ فرمایا ہے۔(الانعام :۹۲) اُس نے کہا کہ ہم تو موسیٰ کے الہام کو بھی نہیں مانتے کہنے کو تو یہ بات کہہ گیا مگر پھر حیران رہ گیا۔