ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 137
کرنے اور ان پر اپنا احسان جتانے کی غرض ۸؎سے پہلے اُن کے دشمنوں سے مل کر اُن کو اُن کے گھروں سے نکلوا دیا۔پھر بظاہر تم نے اُن کے دشمنوں کو کچھ روپیہ دے کر چُھڑا دیا۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تم کو جو اس بات سے منع کیا گیا تھا کہ تم ان کو ان کے گھروں سے مت نکلوانا اُس پر تو تم نے عمل نہیں کیا۔دوسرا حکم تم کو یہ دیا گیا تھا کہ اگر تمہارے متعلقین میں سے کسی پر کوئی مصیبت آوے تو اس کی مدد کرنا۔اس پر تم نے عمل کیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم بعض حصص کتاب پر ایمان لائے اور بعض پر ایمان نہیں لائے۔یاد رکھو کہ جو لوگ ایسے ہوتے ہیں ہم اُن کو دین و دنیا میں ذلیل کر دیتے ہیں۔اِثْمٌ۔جو بات انسان کے دل میں کھٹکے اس کو اِثم کہتے ہیں۔۔شاباش دیتے ہو، پیٹھ ٹھونکتے ہو، مدد کرتے ہو۔۔شرارت کر کے نکلواتے ہو۔رکوع ۱۱ ۔موسیٰ کو کتا ب دی۔روح۔کلام الٰہی۔مسیح علیہ السلام تو موٹی موٹی باتیں ارشاد فرماتے تھے۔اخلاقی امور ،کوئی باریک باتیں نہیں بتا تے تھے۔۔حجت نیرہ، شہادت، عظیم الشان نشان۔ھَوٰی۔گرنا ھَوِیَ کے معنے پیارا لگنا۔۔جن چیزوں کو تم پسند نہیں کرتے۔۔توریت میں اس لفظ کو نامختون کہا ہے۔وہاں اس لفظ کے یہ معنے ہیں کہ جو