ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 123 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 123

جہاں یہود کی سزا کا قرآن نے تذکرہ کیا ہے وہاں صاف وجہ سزا کو بیان فرمایا ہے اور <mark>اس</mark>ی سورۃ میں کہا ہے۔۶؎  (الاحزاب:۲۷)٭ آپؐ کے ساتھی گھبرا گئے۔اِدھر تھوڑے سے معدود گروہ پر سارے عرب کی چڑھائی اُدھر گھر میں یہود کی بدعہدی۔پھر یہود مدینے کے طرق اور ر<mark>اس</mark>توں کی کیفیت سے واقف، محاصرین کفار کو غیرمحفوظ مقام بتا سکتے تھے اِس لئے بڑا خوف ہوا۔علاوہ براں منافقوں کا نکل بھاگنا اور کمزور دلوں کا عذر بلائوں پر بلائیں لایا۔قربان جائیے الٰہی عاجز نوازی کے اُسی کے جنود نے اِن سب اعداء کو بھگوڑا بنایا اور تخمیناً ایک مہینے کے محاصرے پر کفارِعرب الٰہی <mark>اس</mark>بابوں سے بھاگ گئے کیونکہ دس ہزار کی بھیڑ کے ساتھ تین ہزار <mark>اس</mark>لامیوں میں سے صرف تین سَو باقی رہ گئے (وہی جو سچے مسلمان تھے)۔جب دشمن خود بخود بھاگ گئے اور آپ کو اُن کی طرف سے امن ہوا اور یہ اندیشہ مٹ گیا تو اہل <mark>اس</mark>لام کو ایک نیا کھٹکا ہوا کہ بنوقریظہ عہدشکنی کرچکے ہیں اگر انہوں نے مدینے پرشبخون مارا تو ہر ایک <mark>اس</mark>لام والا قتل ہوجائے گا لہٰذا مقتضی عاقبت اندیشی نے بتایا تو آپ مقامِ جنگ سے جہاں خود حفاظتی کے لئے آپ نے کھائی کھود لی تھی مدینے میں تشریف لائے اور قلعہ جات بنوقریظہ کا محاصرہ کیا۔دس پندرہ روز محاصرے میں لگ گئے۔اب قلعہ بند لوگ گھبرائے۔اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں میں رعب ڈالا ( (الاحزاب:۲۷)٭٭) تب یہودانِ بنوقریظہ کا رئیس کعب بن <mark>اس</mark>د قوم میں کھڑا ہوا اور وہ <mark>اس</mark>پیچ دی جس میں کہا۔اے قوم تم کو من<mark>اس</mark>ب ہے تین باتوں میں سے ایک بات مان لو۔یا تو اِس شخص(محمدؐ) پر ایمان لائو۔تم کو صاف عیاں ہو چکا ہے یہ شخص بیشک نبی ہے اور یہ وہی ہے جس کی ٭ اور اتارا اللہ نے اُن لوگوں کو جنہوں نے اہل کتاب سے ان کی مدد کی اُن کے قلعوں سے اور ڈالا اُن کے دلوں میں خوف کو۔ایک گروہ کو ہلاک کرتے ہو اورایک گروہ کو تم قید کرتے ہو۔۱۲ ٭٭ اورڈالا اُن کے دلوں میں خوف کو۔یہ آیت سیپارہ ۲۱ رکوع ۱۹ سورۂ احزاب میں ہے۔۱۲