ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 124 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 124

بابت توریت میں پشین گوئی اور بشارت ہو چکی ہے۔تم اور تمہارا مال واسباب اور تمہاری جانیں بچ رہیں گی۔قوم نے اِس پر انکار کیا۔تب اُس نے کہا آئو عورتوں اور بچوں کو قتل کر ڈالیں (اس کی سزا پائی) اور تلواریں لے؟ مسلمانوں پر گر پڑیں یہاں تک کہ شہید ہو جاویں۔قوم نے کہا اگر ہم جیت گئے تو بال بچوں اور عورتوں کے بغیر ہماری زندگی کیونکر ہوگی۔تب کعب نے کہا آج سبت کی رات ہے۔محمدی جانتے ہیں آج ہم غافل ہیں لڑنہیں سکتے اِس لئے مسلمان بھی غافل اور سُست ہیں آئو غفلت میں مسلمانوں پر حملہ آوری کریں۔تب قوم نے کہا تجھ کو خبر نہیں سبت کی بے حُرمتی سے ہمارے بڑوں پر کیسے وبال آئے۔وہ سؤر اور بندر بن گئے۔آخر قوم کے اتفاقات سے یہود نے ایک سفیر جناب رسالت مآبؐ کے حضور روانہ کیا اور کہا ابولبابہ بن منذر کو ہمارے پاس بھیجئے ہم اُس سے صلاح لیں گے۔جب ابولبابہ ان کی درخواست سے وہاں آئے عورتیں اور بچے چلائے اور یہود نے کہا کیا تیری صلاح ہے ہم لوگ محمدؐ کے فیصلے پر دروازہ کھول دیں۔اُس نے کہا بیشک۔مگر اشارہ کیا وہ تم کو ذبح کا فتویٰ دیں گے۔پھر ابولبابہ پچتایا اور اپنے آپ کو مسجد میں جاباندھا۔جب محاصرے پر مدت گزری اور وہ یہود تنگ ہوئے تو ان کمبخت لوگوں نے کہلا بھیجا ہماری نسبت جو سعدبن معاذ فیصلہ کرے وہ فیصلہ ہم کو منظور ہے۔بدقسمتوں نے رحمۃٌ للعالمین کو حاکم نہ بنایا بلکہ سعد کے فتوے پر راضی ہوگئے اور قلعے سے نکل آئے۔رسولِؐ خدا نے سعد بن معاذکو بلایا اور کہا یہ لوگ تیرے فیصلے پر ہمارے پاس آئے ہیں۔اس سپاہی کو اس قوم کی بدچلنی اور بدعہدی اور ناعاقبت اندیشی اور بنوقینقاع اور بنونضیر سے عبرت نہ پکڑنے پر یہی سوجھی کہ اس بدذات قوم کا قصّہ تمام کرو۔اس نے کہا۔ان کے قابلِ جنگ لوگ مارے جاویں اور باقی قید کئے جاویں۔غرض کئی سَو آدمی قریظی مدینے میں لا کر قتل کیا گیا۔مانا انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔چاہے کوئی کیسے جرائم اور معاصی کا مرتکب ہو جب اُس سے کوئی ایسا سلوک کیا جاوے جو ہمارے نزدیک سختی اور بے رحمی ہے تو اُس وقت ہمیں خواہ مخواہ ایک نفرت اور کراہت معلوم ہوتی ہے اورہمارے دل میں رحم عدل کی جگہ کو چھین لیتا ہے مگر رحم کے باعث