ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 122
خیبر کی آمدنی سے نصف آمدنی مَیں دوں گا اگر مسلمانوں پر حملہ آوری کرو۔سلام بن مشکم اور ابن ابوالحقیق اور حیی اور کنانہ یہ سب بنونضیر مکے میں پہنچے اور کہا ہم تمہارے ساتھ ہیں اگر تم اسلام پر حملہ آوری کرو۔۱؎ ان یہودوں کی کارستانی اور جادوبیانی قریش کے غیظ وغضب سے مل کر تمام عرب کو مدینے پر چڑھا لائی۔جب یہ مختلفہ اقوام بغرض استیصالِ اسلام مدینے میں پہنچے حیی ابن اخطب یہودی خیبری نضری کعب بن اسد قرظی (یہ شخص بنوقریظہ کا ہم عہد تھا) کے پاس پہنچا۔پہلے تو کعب نے حیی کو گھر میں گھسنے نہ دیا اور کہا ہمارا اوراسلامیوں کا باہم معاہدہ اور اتحاد ہے اور بنوقینقاع اور بنونضیر پر جو کچھ بدعہدی کا وبال آیا اُسے یاد کیا مگر حیی نے کہا مَیں تمام قریش اور عرب کے مختلف قبائل کو مدینے پر چڑھا لایا ہوں اوراُن تمام اقوامِ عرب نے عہد کرلیا ہے کہ جب تک اسلام کا استیصال نہ کرلیں گے مدینے سے واپس نہ جائیں گے۔کعب نے پہلے پہل بہت ٹالم ٹالا کیا اور کہا محمدؐ بڑا راست گو راستی پسند انسان ہے اور عہد کا بڑا پکا ہے ہم کو مناسب نہیں اُس کے ساتھ بدعہد بنیں مگر آخر دشمنوں کی کثرت اور اُن کے استقلال کو دیکھ اور حیی کے پُھسلانے اور عداوتِ اسلام کی قدیم بدعہدی میں آکر باغی بن گیا اور تمام عہدوں کو بالائے طاق رکھ کر اُس عبرت بخش عاقبت اندیش عقل کو کھو بیٹھا جو معاملات بنو قینقاع اور بنونضیر میں تجربہ کار ہو چکی تھی اور عین جنگ کے وقت آنحضرتؐکو اِن یہودیوں کی بدعہدی کی خبر پہنچی۔آپؐ نے بہت سے آدمی تحقیق خبر کے لئے روانہ فرمائے اور کہا ان لوگوں کو فہمائش کرو عہد پر قائم رہیں مگر یہود نے درشت جواب دیا اور کہا رسولؐ اللہ کیا ہیں جو ہم اُن کی اطاعت کریں۔ہمارا اُن کا کوئی عہد نہیں۔اِن تمام آدمیوں نے جو یہود کے مقابلے کی خبر لینے گئے تھے آکر عرض کیا یہود دشمن کے ساتھ ہوگئے۔قرآن بھی اِس کی خبر دیتا ہے اور احزاب کے قصے میں کہتا ہے۔ (الاحزاب:۱۱،۱۲)۲؎ ۱؎ زرقانی جلد ۲ صفحہ ۱۳۳،۱۳۵،۱۴۱ ۲؎ جب آئے وہ لوگ اوپر تمہارے اور نیچے تمہارے سے اور جب کج ہوئیں آنکھیں اور پہنچ گئے دل گلوں تک اور تم گمان کرتے تھے اللہ کے ساتھ طرح طرح کے۔اُس جگہ ایمان والے آزمائے گئے اور ہلائے گئے اور ہلانا سخت۔۱۲