ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 121
کی اِن دومقتولوں کا خون بہا (بدل قتل) دیا جاوے۔حسب عہد نامۂ مذکورۂ سابق یہودیوں کو بھی اس خون بہا کے چندے میں شریک ہونا ضرور تھا۔آپ یہود کے پاس تشریف لے گئے۔دونوں مقتولین کے وارث بنونضیر کے دوست تھے اور انہیں کو یہ چندہ دیا جاناتھا اِس لئے آنحضرتؐ کو بنو نضیر کی شرکت کا اس چندے میں بڑا یقین تھا۔اور یہ خیال کیا اوّل تو حسب معاہدہ یہود کو اس چندے میں شریک ہونا ضرورہے۔دوم جن کو روپیہ دیا جاتا ہے وہ اُن کے دوست ہیں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہودانِ بنو نضیر کے محلے میں تشریف لے گئے توانہوں نے چندہ دینے سے انکار کیا اور اُس وقت ایک دلیر بہادر عمرو بن حجاش نام یہودی سے کہہ دیا کہ ایک بڑابھاری پتھر کوٹھے کی چھت پر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر لڑھکا دے اور اُن کا کام تمام کر۔سلام بن مشکم نے یہود کو بہت روکا اور منع کیا مگر وہ اس غدر سے باز نہ آئے۔آخر اُس سچے حافظ حقیقی نے جس نے (المائدۃ:۶۸) کہا تھا خبر دے دی۔۱؎ زرقانی نے لکھا ہے ایک یہودیہ عورت نے اپنے مسلمان بھائی کے ذریعے سے جناب کو یہود کی غداری کی اطلاع دے دی اِس لئے یہودانِ بنونضیر کا محاصرہ کیاگیا۔آخر چھ دن کے بعد اُنہوں نے صلح چاہی مگر عبداللہ بن ابی منافق نے کچھ اپنی امداد کا ایسا چکما دیا کہ پھر باغی بن بیٹھے اِس لئے پھر محاصرہ کیاگیا۔بہت دنوں بعد لاچار ہو کر جلاوطنی پر راضی ہوگئے۔رسولِؐ خدا کو جبرو اِکراہ سے مسلمان بنانا منظور ہی نہ تھا۔اُن کو اجازت دے دی مدینے سے چلے جاویں اور مدینے کو امن و امان کا محل بنایا اور وہ خیبر کو چلے گئے۔غزوۂ قریظہ۔خندق اور احزاب کی لڑائی میں تم دیکھ چکے ہو مشرکوں کے مختلف گروہ اور یہودی اورغطفانی خاص مدینے میں اسلامیوں پر چڑھ آئے۔حیی ابن اخطب یہودی بنونضیر کی جلاوطنی کے بعد قریش کو تحریص دیتا اور کنانہ ابوالحقیق کا پوتا غطفانیوں کو اُکسالایا اور اُن سے وعدہ کیا ۱؎ پہنچا دے جو تجھ کو اُترا تیرے ربّ سے اور اگر یہ نہ کیا تو تُو نے کچھ نہ پہنچایا اُس کا پیغام اور اللہ تجھ کو بچا لے گا لوگوں سے۔۱۲