ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 120 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 120

آپؐ کا جبلی رحم، طبعی خلق ان کے سزا دینے پر غالب آگیا۔اورعبداللہ بن ابی نے بھی سفارش کی اِس لئے بنوقینقاع صرف جلا وطن کئے گئے۔یہود کے ساتھ دوسری لڑائی کا نام غزوۂ بنونضیرہے۔کعب بن اشرف یہود میں ہاں بنونضیر میں کا سردار تھا اور بڑا شاعر، برخلاف عہدنامہ بدر کی لڑائی کے بعد قریش مکہ کے پاس پہنچا اور اُن کو بڑا طیش دلایا اور وعدہ کیا کہ ہم تم کو مدینے میں امداد دیں گے تم اسلام پر حملہ کرو اور اپنی جادو انگیز تقریر سے قریش کو انتقام پرآمادہ کیا۔آخر قریش کعب بن اشرف کی اثر بھری تقریروں سے مدینے پر حملہ آور ہوئے۔مدینے سے تین میل کے فاصلے پر جبل اُحد کے پاس لڑائی ہوئی اور نیز کعب بن اشرف نے رسولِؐ خداکے قتل پر منصوبہ باندھا مگر قدرت الٰہی سے وہ راز کھل گیا اور یہ کعب بن اشرف اپنی ایسی ایسی حرکتوں سے مارا گیا۔بنونضیر کے دلوں میں اُس کے قتل کا رنج پیداہوا اور اُس پر یہ طرہ ہوا کہ ابو براء نام عامری آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دم دلاسادے کر اپنے ہمراہ رسولِؐ خدا کے ستر حواری جو قرآن کے قاری تھے اِس عہد پر ساتھ لے گیا کہ ان کو ہر طرح امداد دی جائے گی۔جب اپنے ملک میں پہنچا اور صحابۂ کرامؓ نے آنحضرتؐ کا خط عامر عامری اہل نجد کے رئیس کے پاس پہنچایا تو عامر نے ایلچی کو مارڈالا اور عصیہ اور رعل قبیلوں کے لوگوں کو اپنا ممد بنا کر ان ستر قاریوں، محمدرسولؐ اللہ کے اصحابوں پر آپڑا اور ان مسلمانوں کو مارڈالا۔صرف دو آدمی بچ گئے ایک توزخمی تھا اور دوسرا قید کیاگیا۔اِس مقید کا نام عمرو بن اُمیہ تھا اور اِس لئے کہ مضری قوم کاتھا اس کو عامر ابن طفیل نے اپنی ماں کے کسی کفارے میں آزاد کردیا۔یہ قیدی عمرو بن اُمیہ آزاد ہو کر مدینے کو آتا تھا راستے میں اسے دوعامری مل گئے۔یہ دونوں عامری اگرچہ اُس قوم کے تھے جنہوں نے غداری سے ستر آدمیوں کو مع ایلچی مارا تھا مگر یہ دو عامری بخلاف اپنی قوم کے رسولؐ اللہ کے ہم عہد تھے اور عمرو اس عہد سے ناواقف تھا۔عمرو نے موقع پا کر ان دونوں عامریوں کو مارڈالا۔جب رسولؐ اللہ کو خبر ہوئی کہ عمرو بن امیہ نے اُن دوعامریوں کو مار ڈالا ہے جو ہمارے ہم عہد تھے توآپؐ نے تجویز