ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 119 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 119

یہودان بنی قینقاع صنعت اور حرفت والی قوم تھے مگر اسکندریہ کے یہودوں کی طرح شریروغدار،فاسق و فاجر تھے۔ایک روز ایک نوجوان مسلمان لڑکی اُن کے بازار میں گئی اور بضرورت اپنے کاروبار کے ایک یہودی لوہار کی دکان پر پہنچی۔نوجوانانِ یہود نے حرمت نسواں اور مہمان نوازی کے اصول کو بالائے طاق رکھ اُس نوجوان عورت کی ہتک حرمت اور آبروریزی چاہی۔وہاں ایک مسلمان راہگیر اُس عورت کا شریک ہوگیا اور خوب مارپیٹ ہوئی۔جو یہودی شرارت کا بانی تھا ماراگیا۔تب یہودوں نے جمع ہو کر اُس مسلمان کو قتل کر ڈالا اور فتنہ ٔ عظیم برپا ہوا۔ادھر مسلمان جوش میں آگئے اورہتھیار لے یہودوں پرجاپڑے اور طرفین میں لوگ مارے گئے۔جونہی مصلح عالم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے فساد کو فرو کیا اور مسلمانوںکا طیش کم ہوا۔اس عاقبت اندیش اور دوربین مصلح نے دیکھا غور کیا کہ اگر یہی حالت مدینے کی رہی تو انجام اچھا نہ ہوگا۔مدینہ باہمی فسادوں کا جنگ گاہ ہی نہ رہے گا بلکہ مخالف فرقوں کے لئے بے تردّد حملہ آوری کا باعث ہوگا۔یہود خلافِ عہد کرہی چکے تھے آنحضرتؐ فوراً یہود کے محلے میں جا پہنچے اور یہ حکم قرآنی اُترا۔ (الانفال:۵۹)۱؎ اوراسی واسطے آپ نے خود تشریف لے جا کر یہود سے فرمایا۔یا تو مسلمان ہو جائو یا یہاں سے چل دو۔یہود نے بڑی سختی سے جواب د۲؎یا کہ قریش کو شکست دے کر (بدر میں) نازاں نہ ہو وہ فنون جنگ سے ناواقف ہیں۔اگر ہم سے لڑا تو دیکھے گا لڑنے والے کیسے ہوتے ہیں۔یہ کہہ کر قلعہ بند ہوگئے اور آنحضرتؐ کی حکومت سے باہمہ عہد سرکش بن گئے۔اس شریر قوم کا فتنہ فرو کرنا نہایت ضروری تھا۔بنابراںاُن کا محاصرہ کیاگیا۔پندرہ روز کے بعد قلعہ بند لوگ گھبرا گئے اور یہ کہہ کر اُتر آئے۔محمدؐصاحب جو ہماری نسبت فیصلہ فرمائیں وہ فیصلہ ہمیں منظور ہے۔آپؐ نے پہلے سخت سزا تجویز فرمائی مگر ۱؎ اور اگر تجھ کو ڈر ہو ایک قوم کی دغا کا تو جواب دے اُن کو برابر کے برابر اللہ کو خوش نہیں آتے دغا باز۔۱۲ ۲؎ ابن ہشام۔۱۲