ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 118
ہوا اور ہتھیار لینے کو وہاں سے چل دئیے۔مصلح عالم خیرخواہ بنی آدم کو خبر ہوگئی۔آپؐ جھٹ پہنچ گئے اور فرمایا اے مسلمانو! اَللّٰہُ اَللّٰہُ اَبِدَعْوَی الْجَاہِلِیَّۃِ وَاَنَا بَیْنَ اَظْہُرِکُمْ بَعْدَ اَنْ ھَدَاکُمُ اللّٰہُ لِلْاِسْلَامِ وَ اَکْرَمَکُمْ بِہٖ وَ قَطَعَ بِہٖ عَنْکُمْ اَمْرَ الْجَاہِلِیَّۃِ وَاسْتَنْقَذَکُمْ بِہٖ مِنَ الْکُفْرِ وَ اَلَّفَ بِہٖ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ۔۱؎ غرض یہ آرام بخش اور حیات افزابات سن کر روپڑے اور باہم گلے ملے اور آپ کے ساتھ شہر میں چلے آئے۔اس وقت یہ آیت اُتری۔ (اٰل عمران:۱۰۰)۲؎ اور انصار اہل اسلام کو قرآن نے بتایا۔ (اٰل عمران:۱۰۱)۳؎ بدر کی لڑائی میں چونکہ مسلمانوں کی فتح پر ایک طرف قریش مکہ آگ بگولہ ہوگئے تھے اور ایک طرف ان یہود کو غضب آیا اور ابوعفک نام یہودی نے آپ کے مارڈالنے پر کوشش کی اور بہت اشعار میں لوگوں کو نبیؐ عرب کے مارڈالنے کی ترغیب دی اِس واسطے وہ مارا گیا۔کچھ عداوت سابقہ اور کچھ اس ابوعفک کا مارا جانا یہود کی خطرناک کارروائیوں کا باعث ہوا۔۱؎ اللہ اللہ یہ جہالت کے دعوے اور مَیں تمہارے درمیان ہوں اس کے پیچھے کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی طرف ہدایت کی اور اسلام کے ساتھ تم کو عزت بخشی اور جہالت کی باتیں تم سے کاٹ دیں اور اسلام کے باعث تم کوکفر سے نکالا اور تم کو باہم الفت دی۔۱۲ ۲؎ اے کتاب والو!کیوں روکتے ہو خدا کی راہ سے ایمان والے کو۔چاہتے ہو اس میں ٹیڑھا پن۔۱۲ ۳؎ اے ایمان والو !اگر تم اطاعت کرو گے ایک گروہ کی اہل کتاب کے پھیریں گے وہ لوگ تم کو بعد تمہارے ایمان کے کافر۔۱۲