ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 104 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 104

چاہئے۔شیطان انسان کو دھوکا دیتا ہے کہ تو کمزور ہے یہ دینی خدمت ادا نہیں کر سکتا اور وہ نہیں کر سکتا۔کئی ایک نالائق عذر دل میں پیدا ہوجاتے ہیں کہ ہم معذور ہیں مسجد نہیں جا سکتے یا روزہ نہیں رکھ سکتے یا نماز جمع کر لینی چاہیے۔ایسے عذرات سے بچنا چاہئے۔چستی سے خدا کی عبادت اور فرمانبرداری کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ کا دعویٰ اور سستی میںبھلا کیا تعلق۔۔سارا قرآن شریف صراط مستقیم سیدھی راہ دکھانے کے واسطے آیا ہے صراط مستقیم وہی ہے جو نبیوں ، صدیقوں، شہیدوں ، صالحین کی راہ ہے۔آنحضرت ﷺ کی راہ ، آپ کے صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کا تعامل۔وہ لوگ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کی اطاعت ضروری نہیں۔ایسے لوگوں کو عملدرآمد کی توفیق نہیں ملتی۔ اور اَلضَّآلّ۔مَغْضُوْب وہ قومیں ہیں جنہوں نے علم پڑھا پر اُس پر عمل نہ کیا اور ضَآلّ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دینی علم پڑھا ہی نہیں یا کسی سے بے جا محبت کی یا محبت میں غلو کیا۔مسلمانوں کو صراط مستقیم کی دعا ماننگے کی ضرورت سوال۔ایک شخص نے سوال کیا کہ سب لوگ جو مسلمان ہیں وہ تو خود صراط مستقیم پر ہیں۔اب ان کو صراط مستقیم کی دعا مانگنے کی کیا ضرورت ہے۔جواب میں حضرت نے فرمایا۔اوّل تو یہ کہنا غلط ہے کہ سب مسلمان ہیں۔مسلمان کہاں ہیں؟ چوریاں کرتے ہیں، زنا کرتے ہیں اور ان باتوں کو پسند کرتے ہیں بلکہ ضروری و حلال جانتے ہیں۔جیل خانے ان سے بھرے پڑے ہیں۔وحدت ملیہ اور غیرت دینیہ کا ان میں نام نہیں۔اِلَّا مَاشَآئَ اللّٰہ۔کیا یہ مسلمان ہیں ؟ پھر کیا وہ مسلمان ہیں جو پورٹ بلیر میں اور گجپت کے قلعہ میں مقید ہیں۔یا وہ رنڈیاں جو بازاروں میں پائی جاتی ہیں وہ مسلمان ہیں۔یا وہ عیاش جو صبح کو رنڈیاں پسند کرتے ہیں اور رات کو بدکاری کرتے ہیں وہ مسلمان ہیں یا وہ امراء مسلمان ہیں جنہوں نے شریعت کا کوئی حکم اپنے واسطے ضروری نہیں سمجھا۔کیا کسی نواب یا بادشاہ اسلام بلکہ مکہ شریف کے پاس کوئی بیت المال ہے اور اس