ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 103
سورۃ الفاتحۃ ۔سارے جہانوں کا ربّ۔عبادت کے لائق وہی ہے اسی کے لئے سب محامد ہیں۔اس میں حکم ہے کہ عبادت اسی کی کی جائے جو سارے جہانوں کا ربّ ہے۔کوتاہ نظر لوگ اپنی نادانی سے کسی ادنیٰ چیز میں اپنے زعم کے مطابق کوئی حسن یا احسان خیال کر کے اُسی کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ا للہ تعالیٰ اُن کے عقیدہ باطل کی تردید فرماتا ہے کہ وہ اشیاء ربّ العالمین نہیں ہیںسب جہانوں کی ربوبیت نہیں کر سکتے، تم خود دیکھ رہے ہو۔پھر وہ عبادت و اعلیٰ محامد کے لائق کیونکر ہو سکتے ہیں۔ماں کے پیٹ سے لے کر بچپن، جوانی، بڑھاپا، موت تک ہر حالت میں اور ہر جگہ انسان اللہ تعالیٰ کی ربویت کا محتاج ہے بلکہ باپ کے جسم میں بلکہ عنصری حالت میں۔پھر بعد الموت جو حالات انسان پر وارد ہونے والے ہیں ان سب میں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ربوبیت کام آوے گی۔لوگ پتھر، مورت، تصویر، قبر، آدمی، فرشتہ وغیرہ کیا کیا کی پرستش کرتے ہیں۔یہ سب عبادت بے سود ہے کیونکہ یہ اشیاء ربّ العالمین نہیں بلکہ خود ربّ العالمین کی ربوبیت کے ماتحت ہیں۔یہی دلائل الرحمٰن۔الرحیم۔مالک یوم الدین میں مذکور ہیں۔۔یہ ایک دعویٰ ہے کہ اے اللہ ہم تیری ہی فرمانبرداری کرتے ہیں اور کریں گے۔ہمارے سب کام تیری ہی اطاعت کے لئے ہیں اور ہوں گے اور کسی کی پرستش ہم نہیں کرتے نہ کریں گے۔عبادت کے اصول یہ ہیں کہ جس کی عبادت کی جائے۔اُس کے ساتھ کامل محبت ہو۔اُس کے حضور اپنا کامل تذلل ہو۔کیا معنے اُس کے حضور میں کامل تواضع وا نکسار کیا جائے جو اُس کا ارشاد ہو اُس کے مطابق عملدرآمد ہو۔ہر وقت اُسی پر بھرو سہ ہو۔۔میں جتلایا گیا ہے کہ آدمی کو سست نہیں ہونا چاہئے بلکہ چست کام کرنے والا بننا