ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 105
میں ان کا تصرف بے جا نہیں۔یا وہ لوگ مسلمان ہیں جو قبروں کے آگے سجدہ کرتے ہیں۔یا وہ عوام مسلمان ہیں جنہوں نے کبھی نماز کا نام نہیں لیا یا وہ ملاں مسلمان ہیں جو مساجد میں بدکاری کرتے ہیں اور جنابت کے ساتھ امامت کرتے ہیں۔یا عدالتوں کے وہ گواہ مسلمان ہیں جو قرآن شریف لے کر جھوٹی قسم کھاتے ہیں۔یا وہ مقدمہ بازاور وکیل مسلمان ہیں جو خود ایسے گواہ بناتے ہیں۔آہ! مسلمان کہاں ہیں؟ ذرا قرآن شریف پڑھو۔ذرا قرآن شریف پڑھو۔اس میں مومنوں کی کیا نشانی لکھی ہے۔(الانفال : ۳)۔ترجمہ۔مومن تو وہ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دھڑ کتے ہیں اور جب اُن پر نشانات الٰہی پڑھے جائیں تو ان کا ایمان بڑھتا ہے اور وہ اپنے ربّ پر بھروسہ کرے ہیں۔ایسا ہی دوسری جگہ لکھا ہے کہ ذکر الٰہی سے اُن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پس غور کرو کہ ایسے لوگوں کو صراط مستقیم مانگنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔دوم۔جیسا کہ دنیوی امور میں ترقی کی کوئی حد نہیں ایسا ہی دینی امور میں بھی ترقی کی کوئی حد نہیں۔دنیوی مثال دیکھو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے وقت انسان پیادہ جاتا ہے۔گھوڑے پر سوار ہو کر جاتا ہے۔پھر ہاتھی کی سواری ہے۔پھر بیل گاڑی، اکّہ، ٹم ٹم، فٹن ہے۔پھر بائیسکل، موٹر ،ٹریم، ریل، جہاز ہے اور اب ایک نئی سواری ایرو پلین ہے ابھی بس نہیں۔دیکھئے آگے کیا کچھ ایجاد ہوتا ہے۔یہ دنیوی راہوں کے طے کرنے کے ذرائع ہیں۔ایسا ہی دینی راہوں کے طے کرنے واسطے بھی طریقے ہیں اور محامد الٰہیہ اور اس کی رضا کی راہوں کے علم میں ترقی کی حد نہیں۔علماء ، اولیاء، انبیاء جس قدر ترقی کرتے جاتے ہیں اسی قدر انشراح بڑھتا جاتا ہے۔میں نے آج قرآن شریف شروع کرنے سے قبل دعا کی ہے۔ہر دفعہ جب قرآن شریف سناتا ہوں مجھے ایک نیا انشراح ہوتا ہے اور ہر دَور میں کچھ نئے علوم کھلتے ہیں۔ہمارے زمانے میں جو لٹریچر تھا اس میں آج بہت فرق ہو گیا ہے۔الفاظ کا ہجا کرنے تک طریق بدل گیا ہے۔ہر روز طریقہ تعلیم میں ایک نئی