ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 102 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 102

اور پھر ان کو قرآن وحدیث پر چسپاں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔مجوسی ، صابی، یہودی ، عیسائی بہت لوگ عرب میں اور اس کے قریب قریب آباد تھے۔ان کے علاوہ عرب کے کناروں پر ایک فلسفیوں کا مذہب جاری ہو چکا تھا اور بہت لوگ اس کو اختیار کر چکے تھے۔انہوں نے بہت سی اصطلاحیں عجیب درعجیب گھڑی تھیں اور پھر اپنے مطلب کے مطابق اُن اصطلاحات کو قرآن و حدیث پر لگا کر نئے نئے معنے کئے جاتے ہیں۔یہ بھی ایک بلا ہے۔جتنی منطق فلسفہ طبیعات آجکل پڑھی جاتی ہے۔قال اقول، ایسا غوجی ، مسلم ، میر زاہد، صدرہ، شمس بازغہ وغیرہ اٹھار ہ کتابیں ہیں۔ا ن کی اصطلاحات کے ماتحت قرآن شریف کے معنے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔بہت سے طلباء اس میں گرفتار ہیں۔اللہ ہی ہے جو کسی ذریعہ سے اس کو گھٹائے۔دوسری صدی کے اخیر میں اور تیسری کی ابتداء میں ایک کتاب لکھی گئی جس کی اصطلاحات کی بنا لفظ عقل پر رکھی گئی ہے۔لکھا ہے ایک عقل اوّل ہوتا ہے ایک عقل دوم۔ایسا ہی جو عقل دسویں ہے وہ اصل خالق اور ربّ ہے۔ایک عقل فعّال ہوتا ہے۔اس قسم کی بہت سی بیہودگیاں گھڑی گئی ہیں۔میں تو ان پر تھوکتا بھی نہیں۔یہ سب جھوٹی باتیں ہیں۔میں نے تم کو سنایا ہے تاکہ تم ان سے بچو۔ایسا ہی ایک شخص نے لکھا ہے کہ خَلْعُ النَّعْلَیْنِ سے یہ مراد ہے کہ دین او ردنیا دونوں کے تعلقات کو چھو ڑدو۔نَعْلَیْن سے مراد ایک دین اور دوسری دنیا ہے۔نَعُوْذُ بِا للّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔یہ جھوٹی بات ہے اور کسی خود غرض نے اپنے پاس سے بنائی ہے۔یہ اصطلاحیں لوگوں نے آپ گھڑی ہیں قرآن شریف نے نہیں بتلائیں۔نہ صحابہ و تابعین نے، نہ ائمہ دین نے، نہ لغت عرب نے۔۳؎