ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 101 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 101

تعریف کرتا ہوں اور ان کی تحقیقات کا محتاج ہوں اور باوجود اس کے میں اسی کو مقدم سمجھتا ہوں جس کو اللہ اور اس کے رسول نے مقدم کیا اور میں اعتقاد رکھتا ہوں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پہلے وفات دی پھر اپنی طرف اُن کا رفع کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وعدہ دیا تھا کہ میں تجھے مارنے والا ہوں اور پھر اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور وہ نہ قتل کیا گیا اور نہ صلیب دیا گیا اور اللہ تعالیٰ کے اس کلام سے اس کا رفع ثابت ہے بلکہ اللہ نے اس کا اپنی طرف رفع کیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں موت کا ذکر پہلے فرمایا ہے۔جس چیز کو خدا نے پہلے رکھا اس کو ہم بھی پہلے رکھتے ہیں اور جس کو پیچھے رکھا اس کو ہم بھی پیچھے رکھتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے زمین کو ہی زندہ اور مردوں کے ٹھہرنے کی جگہ بنائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ محمدؐ ایک رسول ہے اور اس سے پہلے سب رسول گزر چکے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح گزر گئے جس طرح پہلے رسول گزر گئے تھے ان پر صلوٰۃ وسلام اور عیسیٰ ابن مریم جو نازل ہونے والا تھا وہ نازل ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کی صلوات اور سلام اس پر ہو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں سورہ نور میں وعدہ فرمایا تھا کہ خلیفہ جو ہو گا تم میں سے ہو گا اور رسول کریم سید الاوّلین والآخرین سید ولدآدم صلی اللہ علیہ وسلم نے تصریح فرمائی تھی کہ نازل ہونے والا تم میں سے ہی ایک امام ہو گا اور اللہ نے اور اس کے فرشتوں نے اور صاحبانِ علم نے گواہی دی ہے کہ یہی وہ ہے جو آنے والا تھا اور سورج اور چاند نے بھی شہادت دی ہے کہ یہی مہدی ہے۔اور طاعون نے اور قحط نے اور جنگوں نے ثابت کر دیا کہ یہی مرسل ہے۔جیسا کہ قرآن میں آیا ہے اور تجھ سے پہلے امتوں کی طرف ہم نے رسول بھیجے پھر ہم نے وہاں کے باشندوں کو قحط اور بیماری میں مبتلا کیا۔اور خدا نے اس کو بامراد کیا ہے باوجود یکہ آریہ اور برہمو اور عیسائی اور سکھ اور علماء اور صوفی اور بعض حُکّام اور چچا زاد بھائی اور اقارب اور سب نے سارا زور لگا کر اس کی مخالفت کی باوجود اس کے اس کی کامیابی ثابت کرتی ہے کہ وہ امام ہے اور اس کا تحدّی کرنا اور پھر خدا سے ُنصرت پانا ظاہر کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ایک اور مصیبت ایک اور مصیبت ہم پر یہ ہے کہ بہت سی اصطلاحات لوگوں نے آپ بنائی ہیں