ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 100
گے اور وہی غالب رہیں گے جیسا کہ سورۃ مائدہ میں ذکر ہوا ہے اور انہیں میں سے حضرت علیؓ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے اور آنحضرتؐ کی بیٹی فاطمہؓ بتول ان کے گھرمیں تھی اُن کے ساتھ محبت رکھنا ایمان ہے اور اُن کے ساتھ بُغض رکھنا نفاق ہے وہ تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی تھے اور ان کا مرتبہ ایسا تھا جیسا کہ ہارونؑ کا موسیٰ ؑکے پاس تھا اور انہیں میں سے سید حسن المجتبٰی تھے۔اے اللہ تو میرے دل میں ان کی محبت دیکھتا ہے۔خدا اُن سے راضی ہو وہ اس امر کے مصداق ہوئے کہ اُن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ دو مسلمان گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔اور میں اس کے بھائی حسینؓ سے بھی محبت رکھتا ہوں جو اہل جنت کے نوجوانوں کا سردار تھا جو دھوکا سے مظلوم شہید ہو کر مارا گیا اور اس کے مقابلہ کے دشمن نامراد کے ساتھ بغض رکھتا ہوں کسی نے بھی اس کی نیک تعریف نہیں کی بلکہ انہوں نے اس کی برائی بیان کی۔اور میں ان دس سے بھی محبت رکھتا ہوں جن کو بہشت کی بشارت دی گئی تھی اور ان سے بھی جو جنگ بدر میں شامل تھے اور ان سے جو بیعت الرضوان میں شامل تھے اور ان سے جو جنگ احد میں قتل کئے گئے تھے اور ہر ایک سے جس کو آنحضرتؐ نے بشارت دی اور ان کا ذکر ہم نے صحاح( ّستہ) میں پڑھا ہے بلکہ ہر ایک سے میں محبت رکھتا ہوں جو آپؐ کے دست مبارک پر اسلام لایا اور اسلام پر فوت ہوا جیسا کہ معاویہ اور مغیرہ ابن شعبہ۔ان میں سے کسی نے رسول اکرمؐ سے دین کے معاملہ میں جھوٹ نہیں بولا اور نہ ان میں سے کوئی بہرہ تھا۔جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں نے ترک کر دیا ہے، روافض اور شیعہ کو خوارج اور معتزلہ کو اور ایسے مقلّدین کو جو کسی ایک کے قول کی خاطر قرآن وسنّت اور احادیث صحیحہ کے نصوص کو چھوڑ دیتے ہیں۔وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن اور اس کے ساتھ میں ابوحنیفہ اور مالک اور شافعی اور احمد سے محبت رکھتا ہوں اور محمدبن اسماعیل بخاری اور اصحاب السنن اور فقہا ء اور محدِّثین سے محبت رکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔میں ان کی اور ان کے اقوال کی تعظیم کرتا ہوں اور ان کے متبعین سے محبت رکھتا ہوں۔وہ مقتدا لوگ ہیں ان کی اچھی