ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 99
ویسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے اور یقین کیا ہے کہ یہی مومنوں کی راہ ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص مومنوں کی راہ کے سوا کسی اور راہ کی تلاش کرے ہم اسے اُدھر ہی پھیر دیں گے جِدھر وہ پھرا اور اس کو جہنم تک پہنچا دیں گے جو بہت بُری جگہ ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ ہمیں حکم فرمایا ہے کہ نازل کردہ کتاب پر ایمان لائیں ایسا ہی یہ بھی حکم فرمایا ہے کہ محمدؐ اس کے رسول کی اتباع کریں جیسا کہ قرآن شریف میں فرمایا ہے اے رسول ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو خدا تم سے پیار کرے گا۔اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی اطاعت کا حکم فرمایا ہے ایسا ہی اپنے رسول کی اور حاکم وقت کی اطاعت کا بھی حکم فرمایا ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں آیا ہے اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اس کے رسول کی اور جو تم پر حاکم ہو اس کی بھی اطاعت کرو بلکہ والدین کی اطاعت کا بھی حکم فرمایا ہے۔اور فرمایا ہے کہ اگر تیرے والدین یہ کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ شرک کرے حالانکہ تجھے اس کے متعلق کوئی علم نہیں دیا گیا تو اس معاملہ میں ان کا کہنا نہ ماننا باقی دنیا میں ان کا اچھی طرح سے ساتھ دو۔ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو خلقت کی اطاعت پر مقدم کیا جاوے اور اس کے رسول کی اطاعت خود اس کی اطاعت ہے جو سب پر غالب ہے۔جیساکہ فرمایا ہے اور جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی۔میں اس بات سے محبت رکھتا ہوں کہ مہاجرین میں سے سابقین اوّلین کی اتباع کروں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے سبقت لے جانے والے پہلے مہاجر اور انصار اور جن لوگوں نے اخلاص سے ان کی پیروی کی اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ وہ لوگ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سب سے پہلے پاک کئے گئے تھے۔اور ان میں سے خلفاء جو راہ راست پر چلنے والے ابوبکرؓ اور عمرؓ اور عثمانؓ ان میں سے کوئی بھی منافق نہیں ہوا۔اللہ تعالیٰ نے منافقین کی صفت میں یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ جس امر کا قصد کرتے ہیں اس کو حاصل نہیں کر سکتے لیکن اِن بزرگوں نے جس امر کا قصد کیا اُس میں کامیاب ہوئے اور وہ اس کے مصداق ٹھہرے کہ جو تم میں سے ایمان لائے گا اور عمل صالح کرے گا ہم ان کو زمین میں خلیفہ بنا دیں