ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 76 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 76

بس۔پرمیشر بڑی اتم وستو ہیں۔وہ انوپیم ہیں۔کتاب آپ کو پہنچی ہو گی یا پہنچے گی۔میں نے بہت دن ہوئے کہہ دیا ہے اسے آپ دیکھ لیں اور اضطراب و پیا س عمدہ چیز ہے میں اس کی قدر کرتا ہوں۔جیو اور مادہ کا مسئلہ ذرا مشکل نہیں مگر اس پر بسط سے سیر کن بحث اس وقت مناسب ہے جب میں ان تمام مشکلات سے اطلاع پا جائوں جو روحوں اور مادہ کے انادی ماننے والوں کو پیش آئیں۔ستیارتھ پرکاش اورکلیات آریہ مسافر میں ایسے فلسفیانہ دلائل نہیں جس پر گھرائو ہو۔میں نے وید بھاش ، رگوید اور یجر کا سنا ہے اس میں بھی اور شام وید میں بھی ایسے دلائل نہیں دیکھے۔اگر کسی نے ارواح ومادہ کے قدامت پر بسط سے لکھا ہو تو آپ مجھے اس کتاب کے نام سے آگاہ فرماویں میں اس کو راستی پسند نظر سے دیکھوں گا۔میں خود اس دنیا اور اس کے مادہ کو ہر وقت فنا پذیر دیکھتا ہوں اس مشاہدہ کو کون باطل کر سکتا ہے۔پیارے! یہ عارضی مشکلات ہیں جو ادنیٰ توجہ سے دور ہو سکتے ہیں۔میں آپ کا غمگسار اور ہمدرد ہوں۔کتابوں کے مطالعہ پر ملاقات گو ایک ساعت کی ہوضروری ہے۔نور الدین ۱۷؍جنوری ۱۹۰۹ء چند سوالوں کے جواب (۱)مرزا صاحب کے کیا کیا خیالات تھے جو جمہور مسلمانوں سے وہ منفرد تھے؟ جواب :مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا ہے اور یہ اس کا فضل ہے جو مجھ پر ہے اور اس نے مجھے اس صدی کاامام و مجدد بنایا ہے اور مجھے مہدی فرمایا ہے۔لوگ ناراض تھے اور کہتے تھے اور کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ افتراء ہے اور جھوٹ ہے۔(۲) کیا مرزا صاحب سچ مچ دنیا دار تھے اور اسی تحصیل دنیا اور تحصیل حظّ نفسانی کے لئے انہوں نے ایسا کیا تھا جیسا کہ علیٰ العموم اخبارا ت میں لکھا کرتے ہیں؟ جواب۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے عیسیٰ مسیح فرمایا ہے۔مرزا صاحب کہتے