ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 75 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 75

جواب۔بخاری نے اس کے جواز پر ایک باب باندھا ہے، میں اس لئے جائز جانتا ہوں۔عامہ حنفیہ مخالف ہیں اس لئے مسئلہ سہل ہے۔(۴)سوال۔نماز جنازہ میں بعد از سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ کے سوا اور سورۃ بھی پڑھ لیں ؟ جواب۔الحمد شریف کا جنازہ میں پڑھنا سنّت سے ثابت ہے۔ابن عباس نے تاکید کی اور مالابد کے مصنف مؤکد ہیں۔(۵)سوال۔چوتھی تکبیر کے بعد معاً سلام پھیر دیں یا دعا بھی کر لیں ؟ جواب۔بعد تکبیر رابع مختصر سی دُعا تعامل میں ہے۔( البدر جلد۸ نمبر۱۶ مورخہ ۱۱ ؍فروری ۱۹۰۹ء صفحہ ۳) رقیمۃ الصدیق الیٰ طالب التحقیق جناب من! یہ تمام لوگ جو اللہ تعالیٰ ، پرمیشر ، خدا ، گاڈ کو ماننے والے ہیں بالا تفاق مانتے ہیں کہ دعا، پر ارتھنا ایک مفید او ربابرکت چیز ہے تمام مقدس کتب ا س سے بھری پڑی ہیں۔دہریہ بھی ہاتھ پائوں دل سے دعا کرتا ہے اور خواہش رکھتا ہے جب مصائب میں گھرتا ہے۔میں نے اس دعا کا بڑا تجربہ کیا ہے میری عمر ستر سے متجاوز ہے بڑے بڑے کام صرف دعا سے حل ہوئے۔صدقہ خیرات کسی کا بھلا کرنا ، پُن، دان بھی مسلّم بات ہے۔آپ جناب الٰہی میں اضطراب و جوش سے کچھ صدقہ کر کے دعا مانگیئے کہ الٰہی! تجھے راضی رکھنا چاہتا ہوں اور راضی کرنا چاہتا ہوں راہ راست دکھا دے اور ایسا ہو کہ تو پھر ناراض نہ ہو یہی دعا قرآن کریم میں موجود ہے کسی ترجمہ میں دیکھ لیں۔پھر آپ صدقہ و دُعا پورے استقلال و ہمت سے شرو ع کر دو۔صدقہ میں حد کوئی نہیںایک کوڑی بھی صدقہ ہے اگر عمدہ موقعہ پر دی جاوے۔ہر ایک زبان کو ہمارا مالک جانتا ہے شوخی اور گستاخی اس کو ناپسند ہے۔یہ سیوا و خدمت میں آپ سے چاہتا ہوں پھر خدا کو بڑا مان کر اس کی پیدائش کا بھلا چاہو اور