ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 508 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 508

ہے۔فرض کرو عمدہ سے عمدہ لذیذ کھانے دسترخوان پر چنے ہوئے ہیں مگر ہاضمہ درست نہیں۔وہ کھانے زہر معلوم ہوں گے۔لطیف سے لطیف اور شیریں شربت گلاس میں سامنے رکھا ہے مگر انسان کا گلا دکھتا ہے۔وہ شیریں شربت اس کے کس کام کا۔درزی اچھے سے اچھے کپڑے سی کر لاتا ہے مگر بیماری نے بسترے پر ڈال رکھا ہے بھلا وہ عمدہ سوٹ کس کام۔اس لئے ہر ایک چیز کے لئے انسان خدا تعالیٰ کا محتاج ہے اور غنی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔احتیاج کا طرز فرمایا۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہم مسلمانوں پر بڑا فضل ہے کہ اس نے ہمیں احتیاج کا طرز بتلایا کہ کس طرح ہم ہر ایک ضرورت یا احتیاج کو اپنے لئے نعمت اللہ بنا سکتے ہیں۔وہ ہے استخارہ، شادی کے لئے استخارہ بتلایا۔ہر ایک کام کے شروع کرنے سے پہلے استخارہ بتلایا کیونکہ ہر ایک کام اس کے فضل سے ہی ہوتا ہے۔گناہ سے بچو فرمایا کہ بعض لوگ عذر کرتے ہیں ہمیں خرچ کی ضرورت ہے بال بچہ زیادہ، آمدنی کم اس لئے ہم نے فلاں معاملہ میں رشوت یا شراکت اختیار کی۔سو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے  ( فاطر : ۱۹)تم گناہ کرتے ہو مگر قیامت کے روز کوئی بھی تمہارے گناہ کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہے۔سو ایسے لوگوں کو قرآن شریف کی مذکورہ بالا آیت ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے۔قرآن شریف کا منشاء فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے انعام، احسان، جبروت ، عظمت، قدرت وغیرہ کا جس قدر ذکر قرآن شریف میں ہے اور کسی کتاب میں نہیں۔انجیل میں نہ زردشت کی کتاب میں نہ ویدوںمیں۔قرآن شریف اللہ تعالیٰ کی بڑائی، ربوبیت، رحمانیت ، مالک یوم الدین ، حی وقیوم ہونے پر بڑا زور دیتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دراصل گناہوں کی جڑ عدم ایمان صفات الٰہیہ ہے۔دنیا خداوندتعالیٰ کی عظمت کو نظر انداز کرچکی ہے۔جعلساز چور ڈاکو وغیرہ کو اللہ تعالیٰ کی رزاقیت پر ایمان نہیں ہوتا ورنہ وہ کبھی ایسے رذیل فعل کے لئے جرأت نہ کرتے۔سو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ربوبیت