ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 499
سورج گرہن سے سبق فرمایا۔سورج گرہن کو دیکھ کر یہ فائدہ اٹھانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو سورج بھی کہا ہے اور قمر بھی کہا ہے۔آدمی کو چاہیے کہ ظاہر سے باطن کی طرف جائے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب دیکھا کہ سورج کی روشنی جو دنیا کوپہنچتی ہے وہ رک گئی تو آپ گھبرا اٹھے کہ کہیں ہماری روشنی اور ہمارا فیضان اس طرح کم نہ ہوجائے اور رک نہ جائے۔گھبراہٹ کے وقت دعا اور تضرع اور خیرات و صدقہ سے کام لینا چاہیے۔لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا، تضرع ،خیرات اور صدقہ سب سے کام لیا اور دعائیں کیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور آپؐ کی روشنی بلا انقطاع قیامت تک دنیا میں رہنے والی ہے۔اور آپ کے خلفاء کے ذریعہ سے اس کی تجدید ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔فرمایا۔کسوف خسوف خدا تعالیٰ کے نشانات میں سے ہے جو بندوں کو دکھایا جاتا ہے اور سمجھایا جاتا ہے کہ بڑی بڑی روشن چیزیں جو ہیں ان کو بھی خدا تعالیٰ تاریک کر سکتاہے۔علم حدیث کے پڑھنے کے فوائد فرمایا۔احادیث کے پڑھنے کے بہت سے فوائد ہیں۔منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ درود شریف پڑھنے کا بہت موقعہ ملتا ہے۔اور یہ کہ انسان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذہب کس قدر پھیلا تھا۔اور یہ کہ اس سے انسان کی عقل بڑی تیز ہوجاتی ہے کیونکہ مختلف اقوال سنتا ہے کسی کو ترجیح دیتا ہے کسی کو ضعیف ٹھہراتا ہے۔اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کر لے اور آدمی اللہ تعالیٰ کو رضا مند کر ہی لیتا ہے۔ابن عباس کی طرح ایک رکعت صلوٰۃ الخوف پڑھنے والے بھی خدا رسیدہ ہوگئے اور دو ردکعت پڑھنے والے بھی خدا رسیدہ ہوگئے۔ایسا ہی اور بھی فوائد ہیں۔خدا معطل نہیں فرمایا۔مسلمانوںکا یہ مذہب نہیں ہے کہ کوئی ایسا زمانہ بھی آئے گا جبکہ سب چیزیں بالکل نیست نابود ہو جائیں گی۔اور خدا تعالیٰ اپنی صفات سے معطل ہوجائے گا۔کھانے کے متعلق آداب فرمایا۔اسلام نے کھانے کے متعلق جو آداب سکھائے ہیں ان میں سے ایک یہ بات ہے کہ کھانے کے پکنے کے انتظار میں میزبان کے گھر نہیں جانا چاہیے۔وہاں