ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 498 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 498

خدا تعالیٰ کے حضور میں احمدیوں سے بڑھ کر اپنے قرب کا فخر ہے تو خدا سے دعا کر کے احمدیوں کے گلے بند کرا دیں کہ کوئی پانی بھی ان کے اندر نہ جاسکے۔خدا پر توکل ایک شخص کی تجویز پیش ہوئی کہ آئے دن کے مشکلات کورفع کرنے کے واسطے حضور تمام جماعت پرآٹھ آنہ فی کس چندہ لگا دیں۔فرمایا۔میں خدا پر بھروسہ کرتا ہوں اس طرح چندہ مقرر کرنا میرا کام نہیں۔یہ مامور کی شان ہے۔ایک حدیث ایک بچے کے منہ سے فرمایا۔مجھے وہ لذت اب تک نہیں بھولتی جبکہ بہت مدت کی بات ہے ایک دفعہ دہلی گیا۔میں نے ایک دوست کے پاس جانا تھا۔اس کا مکان تلاش کرتے ہوئے میں ایک محلہ میں گیا۔وہاں ایک چھوٹا سا بچہ سات آٹھ سال کی عمر کا میں نے دیکھا۔مجھے اس کے ساتھ انس محسوس ہوا۔قلب قلب کو پہچانتا ہے۔میں نے اسے اس مکان کے متعلق پوچھا۔اس نے بتلایا۔پھر میں نے اس سے دریافت کیا کہ کچھ پڑھے ہوئے ہو۔اس نے کہا ہاں۔قرآن پڑھے ہیں، حدیث پڑھے۔میں نے کہا اچھا کوئی حدیث سناؤ۔اس نے نہایت سنجیدگی اور فصاحت سے کہا۔قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُ مِرْأَۃُ الْمُسْلِمِ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے آئینہ ہوتا ہے۔سامنے تو اس کا عیب بتادے پھر پیچھے دل صاف رکھے۔اس بچے کے منہ سے اس حدیث کو سن کر مجھے وجد آ گیا۔غیب اور ایمان بالغیب کے معنی فرمایا۔جو بندے کو معلوم نہ ہو وہ غیب ہے۔جو موجود نہیں وہ بھی غیب ہے۔جو معدوم ہوچکا ہے وہ بھی غیب ہے۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی ذات کو بھی غیب کہتے ہیں۔فرمایا۔ایمان بالغیب کے یہ معنی بھی ہیں کہ انسان جب بالکل علیحدہ ہو کوئی اس کو نہ دیکھتا ہو۔اس وقت بھی خدا تعالیٰ سے ڈرے۔