ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 500
بیٹھ کر کھانے کا انتظار کرنا ٹھیک نہیں۔اس میں میزبان کے واسطے تکلیف ہے وہ کھانے کا انتظام کرے یا میزبان کی خاطر کے لئے اس کے پاس بیٹھے۔دوسری بات یہ ہے کہ کھانا کھا کر باتیں کرنے کے لئے بیٹھ نہیں رہنا چاہیے۔تیسری بات یہ ہے کہ اپنے آگے سے کھانا کھائے ادھر ادھر ہاتھ نہیں مارنا چاہیے۔چوتھی یہ بات ہے کہ جو کھانا پسند نہ ہو اس کی مذمت نہیں کرنی چاہیے ہاں اسے چپ چاپ الگ رہنے دیں۔افسوس ہے کہ بعض لوگ اپنے گھر میں اسی واسطے لڑائی لگائے رکھتے ہیں کہ کھانا ان کو پسند نہیں آیا۔بورڈنگ میں بچے اس پر لڑ پڑتے ہیں۔یہ ٹھیک نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت تھی کہ جو کچھ میسر آئے اسے کھا لیتے۔اعلیٰ درجہ کی چیز ملتی وہ بھی کھا لیتے ادنیٰ درجہ کی شئے ملتی وہ بھی کھا لیتے کسی خاص شئے کی پابندی نہ کرتے۔یہ سادگی اور بے تکلفی کی عادت آپ کی لباس کے معاملہ میں بھی تھی جیسا مل گیا ویسا ہی پہن لیا کوئی تکلف نہ تھا۔دعوتوں کے عجائبات میں سے ایک واقعہ ہے۔ایک دفعہ ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی کہ پانچ آدمی آویں اور پانچویں آپ ہوں۔آپ نے اس کی دعوت قبول فرمائی۔اس کے مکان پر جاتے ہوئے راستہ میں ایک چھٹا آدمی ساتھ ہولیا جیسا کہ لوگوں کی عادت ہے کہ بزرگوں کے ساتھ ہوجاتے ہیں۔جب حضورعلیہ السلام میزبان کے دروازے پر پہنچے تو آپ کھڑے ہوگئے اور میزبان کو کہا کہ یہ آدمی زائد آیا ہے اس کو ہم نے ساتھ نہیں لیا ہے۔تمہارا اختیار ہے کہ اسے اندر جانے کی اجازت دو یا واپس کردو۔کیسی سادگی اور صفائی ہے۔آج کل کوئی مہمان سے پوچھے کہ کتنے آدمی ہوں گے تو ہتک سمجھی جاتی ہے۔غرض دعوت کے آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی کے گھر بلا اجازت نہ جاؤ۔سوراخ میں سے نہ جھانکو فرمایا۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ دوسروں کے گھروں میں سوراخ میں سے جھانکتے ہیں۔یہ منع ہے اور اس کے دو نقصان ظاہر ہیں ایک گناہ اور دوسرا جریان کا مرض۔ایک ضروری مسئلہ فرمایا۔حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کی بیبیوں کے سوانح میں انسان کو بے دھڑک کوئی بات نہیں کرنی چاہیے اس سے گناہ گار ہوجانے کا اندیشہ ہے۔مؤرخ کو چاہیے کہ اس