ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 483 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 483

کہ دوسروں کا فتویٰ پوچھتے ہیں اور اپنی حالتوں پر کچھ غور نہیں کرتے۔بہت سے آدمی ہماری نگاہ میں ہیں جنہیں بہت کچھ دعویٰ ہے کہ ہم یہ ہیں اور یہ ہیں۔مگر وہ دیتے کچھ نہیں۔وہ خدا کے لئے سوچیں کہ آیا وہ حقیقی طور پر اس سلسلہ میں شامل بھی ہیں؟ خدا کو وہی لوگ پیارے ہیں جو اپنے ایمان کو اپنے اعمال سے پختہ کرتے ہیں۔بعض ایسے مخلص بھی ہیں جو بہت غریب ہیں اور اپنے لئے کوئی سبیل معاش بھی نہیں رکھتے مگر باایں جب ان کو کچھ مل جاتا ہے تو وہ چندہ میں دیتے ہیں۔جیسے یہاں حافظ معین الدین حضرت صاحب کے پرانے خادم ہیں۔کوئی شخص یہ نہ خیال کرے کہ میں بہت نہیں دے سکتا۔جس حد تک کوئی شخص استطاعت رکھتا ہے اسی حد تک ادا کرے مگر یہ ضروری ہے کہ مقرر چندہ کی ادائیگی کو اپنے اوپر فرض کرلے اور وقت مقرر پر اس کی ادائیگی میں غفلت نہ کرے۔تمہارے مالوں کے اللہ کی راہ میں خرچ ہونے سے تم ہی کو فائدہ ہوگا۔بہت سے ہیں جو دعوے تو یہ کرتے ہیں کہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کیا ہے مگر دین کے لئے کچھ مانگا جائے تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں۔حالانکہ دنیا کے لئے اگر خرچ کرنے کی ضرورت ہو یا محض نمو کے لئے بھی۔تو اس بات سے بھی پرہیز نہیں کرتے کہ قرض لے کر خرچ کردیں بلکہ سُو دپر قرض لے کر بھی خرچ کرلیتے ہیں۔وہ غور کریں کہ خدا کی راہ میں دینے کے لئے کیوں وہ ویسا جوش نہیں دکھا سکتے جو دنیا کے لئے خرچ کرنے میں دکھاتے ہیں۔کیا اس سے ان کا دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا دعویٰ سچا ثابت ہوتا ہے یا جھوٹا۔دیکھو میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم روپے کو اپنا معبود مت بناؤ۔یہ تمہارے کسی کام نہیں آئے گا۔جس نفس کی حظّ کے لئے، جس اہل و عیال کے لئے، جن دوستوں کے لئے تم ناجائز کماؤ گے یا خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے رکو گے وہ تمہیں کبھی کوئی فائدہ نہ دیں گے اور اس طرح سے تمہارے دل کو کبھی اطمینان اور خوشی نصیب نہیں ہوسکتی۔بلکہ حرص کی جلن دن بدن ترقی کرتی چلی جاوے گی اور تمہارے ایمان کو بھی برباد کرکے چھوڑے گی۔یہاں ایک لنگرخانہ ہے جو ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنے دنیوی کاروبار سے فراغت کا وقت نکال کر یہاں علم دین سیکھنے کے لئے آتے ہیں۔یہ اس سلسلہ کی سب سے پہلی شاخ ہے۔وہ بھی اس