ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 482
کی سچائی کو ثابت کرکے نہ دکھاؤ۔جب تک ان کاموں میں دلی جوش اورسچی ہمدردی سے حِصّہ نہ لو جو تمہیں کرنے کے لئے کہا گیا ہے اور صدق دل سے ان احکام کے بجالانے میں ساعی نہ رہو جو تم کو دئیے گئے ہیں۔میں اپنے نفس کے لئے تم سے کچھ نہیں مانگتا (یونس :۷۳)۔بلکہ تمہاری بھلائی کے لئے تمہیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ تم چندوں میں سستی کو چھوڑ دو۔میں تمہیں اس اشتہار کی طرف متوجہ کرتا ہوں جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان لوگوں کے ساتھ جو مرید کہلاتے ہیں آخری فیصلہ قرار دیا ہے۔جس میں آپ نے یہ تحریر فرمایا ہے۔’’یہ اشتہار کوئی معمولی تحریر نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ جو مرید کہلاتے ہیں یہ آخری فیصلہ کرتاہوں۔مجھے خدا نے بتلایا ہے کہ میرا انہیں سے پیوند ہے یعنی وہی خدا کے دفتر میں مرید ہیں جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں۔مگر بہتیرے ایسے ہیں کہ گویا خدا تعالیٰ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔سو ہر ایک شخص کو چاہیے کہ اس نئے انتظام کے بعدنئے سرے عہد کرکے اپنی خاص تحریر سے اطلاع دے کہ وہ ایک فرض حتمی کے طور پر اس قدر چندہ ماہواری بھیج سکتا ہے۔مگر چاہیے کہ اس میں لاف گزاف نہ ہو جیسا کہ پہلے بعض سے ظہور میں آیا کہ اپنی زبان پر وہ قائم نہ رہ سکے۔سو انہوں نے خدا کا گناہ کیا جو عہد کو توڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس اشتہار کے شائع ہونے سے تین ماہ تک ہر ایک بیعت کرنے والے کے جواب کا انتظار کیا جائے گا کہ وہ کیا کچھ ماہواری چندہ اس سلسلہ کی مدد کے لئے قبول کرتا ہے۔اور اگر تین ماہ تک کسی کا جواب نہ آیا تو سلسلہ بیعت سے اس کا نام کاٹ دیا جائے گا اور مشتہر کردیا جائے گا۔اگر کسی نے ماہواری چندہ کا عہد کرکے تین ماہ تک چندہ کے بھیجنے سے لاپرواہی کی اس کا نام بھی کاٹ دیا جائے گا اور اس کے بعد کوئی مغرور اور لاپرواہ جو انصار میں داخل نہیں اس سلسلہ میں ہرگز نہیں رہے گا۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۵۵۵،۵۵۶) اب اس سے بڑھ کر میں تمہیں کیا کہہ سکتا ہوں جو لوگ چندہ نہیں دیتے یا چندہ دینے میں سستی اور کاہلی سے کام لیتے ہیں وہ خود ہی سوچ لیں کہ کہاں تک وہ احمدی ہیں۔کس قدر افسوس کی بات ہے