ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 460
جب سلطنت آئی تو ان میں علو پیدا ہوگیا اور یہی موجب ان کے زوال کا ہوا۔دیکھو مسلمانوں کے سب گھروں میں چوہڑوں کی آمد و رفت ہے وہ ان کے گھروں کی صفائی کرتے ہیں مگر ان کو کبھی ان پر رحم نہیں آتا، ان کی اصلاح کا کوئی خیال ان کے دلوں میں نہیں آتا، ان کو حقیر جانتے ہیں اور اسی حال میں ان کو چھوڑ رکھا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ملک کے بعض حصوں میں یہ قوم اب ترقی کر رہی ہے بعض ان میں سے بڑے بڑے عہدوں پر پہنچ چکے ہیں۔کسی کی حقارت نہیں کرنی چاہیئے۔مجھے ایک سیدصاحب کا حال معلوم ہے کہ وہ اپنی ذات کو اتنا بڑا جانتے تھے کہ اپنے شہر کے کسی سید کو اپنی لڑکی دینا پسند نہ کرتے تھے اور چونکہ وہ کسی کو لڑکی نہ دیتے تھے ان کے لڑکے کو بھی کوئی لڑکی دینا پسند نہ کرتا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا بیٹا اور بیٹی ہردو عیسائی ہوگئے اور ان کی لڑکی نے ایک چمار نوعیسائی کے ساتھ شادی کرلی۔یہ بیان عبرت کے لیے ہے۔غرض اور کی حقارت کرنا بہت بری بات ہے۔اپنی بات ایک صاحب کا عریضہ پیش ہوا جنہوں نے حضرت صاحب کو مخاطب کرکے یہ شعر لکھا تھا ؎ جلادے اپنے مردے کو بتادے کوئی بات اپنی دکھادے روئے تاباں میں بھی ہوں تیرے مریدوں میں فرمایا۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ بہت پڑھا کریں اور نماز کو سنوار کر پڑھا کریں۔حالت زمانہ فرمایا۔قرآن شریف میں تو آیا ہے کہ (النساء:۳۵) مگر آج کل تو یہ حال ہے کہ اَلنِّسَائُ قَوَّامَاتٌ عَلَی الرِّجَالِ۔ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ کہیں تمہاری بیوی بھی تم پر غالب آکر تمہاری ہجرت کو واپس نہ لوٹادیوے۔