ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 459 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 459

کرنے والا ٹھہرتا ہے۔جب تک تعلق نہ ہو دعا نہیں نکلتی۔اضطراری دعا نہیں نکلتی۔خط سے بھی تعلق پیدا ہوتا ہے۔تعلق کے سوا اضطراب نہیں پیدا ہوتا۔کتابوں کی شرحیں فرمایا۔میں بہت غور سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ شروع میں بہت شرحیں نہیں پڑھنی چاہئیں۔کیونکہ شارح اپنا خیال ہی ظاہر کرتا ہے۔ایک شخص نے گلستان کی شرح میں وحدت وجود بھردی حالانکہ سعدی کا گمان بھی کبھی وحدت وجود کی طرف نہیں گیا ہوگا۔کتابیں سمجھنے کے لیے چار امور کسی کتاب کے سمجھنے کے لیے چار چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔(۱)لغت۔اس میں عام بات ہوتی ہے کوئی خاص خیال نہیں ہوتا۔(۲)مصنف کبھی ایک جگہ پوری بات نہیں کرتا تو دوسری جگہ پوری کردیتا ہے۔خود اس مصنف کی تصنیف پر غور کرنا چاہیئے کہ مصنف کا منشاء کیا ہے۔(۳)وہ اصول جن پر وہ کتاب لکھی گئی ہے وہ کیا کہتے ہیں۔کیونکہ اصول کے خلاف کتاب نہیں ہوسکتی۔(۴)جس مذہب کی کتاب ہے اس کی جڑ تو نہیں کاٹنے لگی۔جب وہ اس مذہب کو ثابت کرنے کے لیے کتاب بنی ہے تو اس کو کاٹ تو نہیں سکتی۔کہانیوں کی ضرورت نہیں فرمایا۔قرآن شریف سمجھنے کے لئے کہانیوں کی ضرورت نہیں تفسیر والوں نے کہانیاں بھردی ہیں۔اساطیرالاوّلین تو کافر کہا کرتے تھے مومنوں کو اس سے کیا واسطہ۔قرآن مجید میں ایمان، اخلاق، صفات الٰہیہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشینگوئیاں، حالات اور فقہ کے مسائل ہیں۔تکبر نہ کرو فرمایا۔تکبر خداوند تعالیٰ کو بہت ناپسند ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (القصص:۵) فرعون نے علو کیا، تکبر کیا، بنی اسرائیل کو ذلیل سمجھا۔مسلمانوں میں بھی