ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 461
ہندوؤں کے ہاتھ سے کھانا ایک شخص نے مفصلہ ذیل چار سوال کیے۔(۱) یہ کہ مشرک کی کیا تعریف ہے؟ (۲)یہ کہ اس مشرکانہ تعریف میں ہندو شامل ہیں یا نہیں؟ (۳)یہ کہ ہندو کے ہاتھ کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ (۴)یہ کہ اگر جائز ہے تو پھر اس آیت کی جو ذیل میں درج ہے کیا تفسیر ہے؟(التوبۃ:۲۸) ان سوالات کے جواب حضرت امیرالمومنین نے یہ لکھوائے۔۱۔کوئی شخص جب اللہ کی ذات، اسماء، افعال، عبادات میں کسی مخلوق کو سانجھی بنائے اور بلااجازت حق سبحانہٗ اس کی تعظیم کرے جو معبود حقیقی کے سزاوار ہے تو وہ شخص مشرک ہے چاہے مسلمانی کا دعویٰ کرے۔(یوسف:۱۰۷) ۲۔آریہ مشرک ہیں کیونکہ وہ اللہ کی ذات کے ساتھ روح، مادہ، فضاء، زمانہ کو بھی ازلی و ابدی سمجھتے ہیں۔سناتنی ہندو بھی مشرک ہیں وہ بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔۳۔ہندو کے ہاتھ کا (حلال) کھانا جائز ہے۔(التوبۃ:۲۸) نجس اعتقادی مراد ہے۔دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(الحج:۳۱) یعنے تمام بت پلید ہیں ان سے بچو۔اب پرستش تو سورج چاند کی بھی ہوتی ہے تو کیا وہ ناپاک ہیں؟ ایسا ہی بت پتھر، لکڑی کے ہوتے ہیں۔پھر مشرکوں کو جو نجس فرمایا تو یہ روحانی پلیدی مراد ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں جب کہ آپ کی اپنی حکومت تھی ایک مشرک کے مشکیزہ سے پانی پیا۔صحابہ کو پلایا۔پس جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول نے حلال کیا اپنے پر حرام نہیں کرنا چاہئے۔