ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 458
میں نے کبھی کسی کا کوئی مال نہیںاٹھایا اور نہ کبھی مجھے کسی کا روپیہ ہی دکھلائی دیا اور میںیہ خوب جانتا تھا کہ اس مقام پر مدت سے میرے سوائے کوئی آدمی نہیں رہا اور نہ کوئی آیا۔لہٰذا میں نے اسے خدائی عطیہ سمجھ کر لے لیا اور شکر کیا کہ بہت دنوں کے لیے یہ کام دے گا۔محبت قرآن فرمایا۔قرآن شریف کے ساتھ مجھ کو اس قدر محبت ہے کہ بعض وقت تو حروف کے گول گول دوائر مجھے انف محبوب نظر آتے ہیں اور میرے منہ سے قرآن کا ایک دریا رواں ہوتا ہے اور میرے سینہ میں قرآن کا ایک باغ لگا ہوا ہے۔بعض وقت تو میں حیران ہوجاتاہوں کہ کس طرح اس کے معارف بیان کروں۔مطالعۂ قدرت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے مطالعہ سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے۔اور انعامات الٰہی کے مطالعہ سے محبت میں ترقی ہوتی ہے۔یقین کی علامت فرمایا۔کوئی عقلمند جان بوجھ کر اپنے آپ کو کنوئیں میں نہیں گراتا، آگ میں نہیں پھینکتا، انسان کیا بلکہ حیوان بھی اپنے آپ کو کسی گڑھے میں نہیں گراتا۔اس کا کیا سبب ہے؟ سبب یہی ہے کہ اسے یقین ہے کہ میں اگر اس میںپڑوں گا تو ہلاک ہوجاؤں گا، تباہ ہوجاؤں گا۔یقین ہی ہے جو انسان کو اس مقام میں پڑنے سے بچاتا ہے۔قبضِ روح فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(الزمر:۴۳)۔روح کلام الٰہی کو کہتے ہیں مگر لوگوں نے غلطی سے نفس کا نام روح رکھ لیا ہے۔اللہ تعالیٰ جانوں کو قبض کرتا ہے کب؟ جب کہ مرجاتی ہیں اور جب سوجاتی ہیں۔اس طرح تمہاری جانیں قبضۂ قدرت الٰہیہ میں ہیں۔بیعت کا ظاہری فائدہ ذکر ہوا کہ ایک شخص آپ کو مانتا ہے مگر بیعت نہیں کرتا۔فرمایا۔بیعت کا فائدہ ایسا ہے جیسے کسی درخت میں شاخ لگا دی۔جو فضل اس درخت پر ہوتے ہیں اس سے پھر شاخ بھی حصہ لیتی ہے۔جب خدا کسی کو مامور کرتا ہے تو اس کی اطاعت اور بیعت نہ کرنے والا خدا سے بغاوت