ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 457 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 457

خدا تعالیٰ فرماتا ہے (الزخرف:۴۵)یہ قرآن مجید تیرے اور تیری قوم کے شرف کا موجب ہے۔پس بناوٹی چیزوں سے بڑائی ڈھونڈ کر اپنا نقصان نہ کرو۔رمضان شریف کی غرض فرمایا۔رمضان شریف تو اس واسطے ہوتا ہے کہ لوگ بھوک پیاس کی برداشت کریں اور صابر بننے کی مشق کریں۔مگر ہمارے مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ رمضان میں الٹے ان کے خرچ پہلے سے دگنے چوگنے بڑھ جاتے ہیں۔(البدر جلد۱۰ نمبر۴۶و ۴۷ مؤرخہ ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحہ۳) ناموں سے تعبیر فرمایا۔ناموں سے بھی تعبیر ہوتی ہے۔جبکہ بوئر اور انگریزوں کی لڑائی ہوا کرتی تھی تو مجھے بوئر لفظ سے خیال آتا تھا کہ یہ شکست کھائیں گے۔خدا ہی رازق ہے فرمایا کہ میرا خدا ہمیشہ میرا خزانچی رہا ہے مجھے کبھی تکلیف نہیںہوئی۔چونکہ میرا توکل ہمیشہ خدا پر رہا اور وہی قادر ہر وقت میری مدد کرتا رہا ہے۔چنانچہ ایک وقت مدینہ میں میرے پاس کچھ نہ تھا۔حتی کہ رات کے کھانے کے لیے بھی کچھ نہ تھا۔جب نماز عشاء کے لیے وضو کرکے مسجد کو چلا تو راستہ میں ایک سپاہی نے مجھ سے کہا کہ ہمارا افسر آپ کو بلاتا ہے۔میں نے نماز کا عذر کیا پر اس نے کہا میں نہیں جانتا میں تو سپاہی ہوں حکم پر کام کرتا ہوں آپ چلیں ورنہ مجھے مجبوراً لے جانا ہوگا۔ناچار میں ہمراہ ہوگیا۔وہ ایک مکان پر مجھے لے گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک امیر افسر سامنے جلیبیوں کی بھری ہوئی رکاب رکھا ہوا بیٹھا ہے۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ اسے کیا کہتے ہیں۔میں نے کہا ہمارے ملک میں اسے جلیبی کہتے ہیں۔کہا کہ ایک ہندوستانی سے سن کر میں نے بنوائی ہیں۔خیال کیا کہ اس کو پہلے کسی ہندوستانی کو ہی کھلاؤں۔چنانچہ مجھے آپ کا خیال آگیا اس لیے میں نے آپ کو بلوایا۔اب آپ آگے بڑھیں اور کھائیں۔میں نے کہا نماز کے لیے اذان ہوگئی ہے۔فرصت سے نماز کے بعد کھالوں گا۔کہا مضائقہ نہیں۔ہم ایک آدمی کو مسجد میں بھیج دیں گے کہ تکبیر ہوتے ہی آکر کہہ دے۔خیر میں کھا کر جب شکم سیر ہوگیا تو ملازم نے اطلاع دی کہ نماز تیار ہے تکبیر ہوچکی ہے۔پھر دوسری صبح میںجب کہ اپنا بسترا صاف کر رہا تھا اور اپنی کتابیں الٹ پلٹ رہا تھا تو ناگہاں ایک پونڈ مل گیا۔چونکہ