ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 453
حدود سے تجاوز فرمایا۔لوگ کہتے ہیں فلاں زبان محدود ہے۔محدود کیا ہونی ہے عقلا وفصحاء قوم خود ہی زبان کو وسعت دے لیتے ہیں۔طغیان کہتے ہیں مذہبی حد سے باہر نکل جانے کو۔انبیاء بھی جب آتے ہیں تو حدوداللہ مقرر کرتے ہیں۔جو قوم ان سے گزرے اسے طاغیہ کہتے ہیں۔نماز میں اوّل وقت جانے کا استنباط فرمایا۔(طٰہٰ:۸۵) سے استنباط ہوا کہ نماز میں اوّل وقت میں جانا چاہئے۔حاکم قوم کا اثر فرمایا۔اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ حاکم قوم کا اثر محکوم پر ضرور ہوتا ہے۔مثال کے طور پر بال ہی لو۔سکھوں کے عہد میں لوگ بڑے بڑے بال رکھتے تھے مگر اب قینچی سے ایسے کتراتے ہیںکہ گویا ہیں ہی نہیں۔پھر بھی بعض برداشت نہیں کرسکتے۔اسی طرح فرعون اور اس کی قوم گائے پرست تھے اسی لیے اس کا تاج گئومکھی تھا۔بنی اسرائیل پر بھی اس کا اثر ہوا۔اور اس کی عظمت کو نکالنے کے لیے حضرت موسیٰؑ کی معرفت حکم الٰہی ہوا کہ وہ درشنی گائے ذبح کرو۔ (البقرۃ:۶۸)اور اللہ حکم دیتا ہے کہ گائے ذبح کرو۔رسم و رواج کی اتباع لوگ رسوم کے بہت تابع ہیں۔جتنی دولت مند قوم ہے ان کے نزدیک گئوہتیا حرام ہے۔ہزاروں لاکھوں بکرے ذبح ہوتے ہیں اور شور نہیں مچاتے۔برخلاف اس کے گائے پر شور پڑتا ہے۔اس کی و جہ یہ ہے کہ گائے ذبح کرنے کارواج عام نہیں کیا گیا۔حصولِ معارف کے لیے چار باتیں فرمایا۔چار باتیں ہوں تو اللہ معارف دیتا ہے۔(۱) آدمی اپنی اصلاح کرلے۔(۲)ایمان لائے۔(۳)عمل صالح کرے۔(۴)جو بری بات چھوڑ دی ہے اس کے بالمقابل اچھی بات اختیار کرے۔زرّیں نصائح فرمایا۔وہ راہ چلو جو سہولت کی راہ ہو تا خدا کے شکر گزار بندے بنو۔موت کو یاد