ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 452 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 452

خصوصیت نہیں بلکہ مرزائی بھی ایسا ہوگا تو وہ بھی پکڑا جائے گا۔جھوٹ کی سزا ابن ابی لیلیٰ کے پاس ایک مجرم پکڑا آیا۔آپ نے اسے سزا دی مگر نرم۔اس نے عرض کیا کہ پہلی دفعہ کا جرم ہے تخفیف فرمائیے۔آپ نے دگنی سزا دی اور فرمایا کہ تم نے جھوٹ بول کر عدالت کی توہین کی۔ایک شخص نے پوچھا کہ حضرت وہ تو رحم کے قابل تھا آپ نے سزا بڑھادی۔فرمایا۔خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے (المائدۃ:۱۶) جس سے معلوم ہوا کہ وہ پہلی دفعہ نہیں پکڑتا۔پس اس کی گرفتاری اس کو ثابت کرتی ہے کہ یہ جرم کئی دفعہ اس سے ہوچکا ہے۔آخر دوستوں نے اس مجرم سے منوالیا کہ واقعہ میں یہ جرم کئی دفعہ کرچکا ہوں اور اللہ تعالیٰ ستاری فرماتا رہا۔علم توجہ کا مسئلہ فرمایا۔علم توجہ کا یہ مسئلہ ہے جب انسان کسی امر پر بھروسہ کرلیتا ہے تو پھر خطرہ نہیں رہتا۔اصلاح اعمال کرو فرمایا۔جب کسی حاکم سے تکلیف پہنچے تو بجائے اس کے کہ اس حاکم کا مقابلہ ہو اپنے اعمال کی اصلاح کرلو۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔(الانعام:۱۳۰)۔پس جب تک تم خود ظالم نہیں تم پر ظالم حکمرانی نہیں کرے گا۔امام ابوحنیفہ ؒ کو لڑکے کی مؤثر نصیحت فرمایا۔امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں لکھا ہے آپ نے بارش میں ایک لڑکے کو دوڑتے دیکھا۔فرمایا۔علی رسلک یا صبی مزلۃ و مذلقۃ۔لڑکے نے کہا میں گروں گا تو میرا ہی پاؤں ٹوٹے گا آپ سنبھل کر چلئے کہ آپ کے پھسلنے سے جہان پھسلے گا۔امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں اس سے بڑھ کر کوئی نصیحت مجھے مؤثر نہیں۔فرمایا۔میں بھی قرآن مجید بڑی احتیاط، بڑے اخلاص کے ساتھ سناتا ہوں۔بہت سے عجائبات جو میرے اپنے ذوق کے ہیں ان کو علی العموم ظاہر نہیں کرتا۔پھر بھی دعا چاہیئے کیونکہ اگر میں غلطی کروں تو اس کا اثر بہت وسیع ہے۔