ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 454
کرتے رہو۔بعض آدمی ایک چھوٹا سا ٹوٹکا چھوڑ دیتے ہیں پھر تمام کی تمام قوم اس میں مبتلا ہوجاتی ہے اس سے بچو۔رزق کی قدر کرو۔مشکلات میں خدا کا سہارا پکڑو۔(البدر جلد۱۰ نمبر۴۴و۴۵ مؤرخہ ۵؍اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۹تا۱۲) زخم کی نسبت ڈاکٹروں کی رائے حضرت خلیفۃ المسیح بفضلہ تعالیٰ بخیریت ہیں۔زخم کے متعلق فرمایا۔بعض ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ ہنوز اس کے اندر کوئی ٹکڑا ہڈی کا باقی ہے۔میرا بھی یہی خیال ہے۔زخمِ ناسور کی طرح نہایت باریک سوراخ ہے۔تقویٰ کی تاکید خطبہ جمعہ کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح نے تقویٰ کی تاکید پر ایک مختصر تقریر کی۔فرمایا۔زخم میںدرد کے خوف سے میںسجدہ بھی نہیں کرسکتا۔لیکن ایک دوست کی خواہش کو پورا کرنے کے واسطے میں کھڑا ہوا ہوں کہ کچھ وعظ کروں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(الحشر:۱۹) اس آیت شریف میں دو بار تقویٰ کا حکم دیا گیا ہے اور پہلی دفعہ متقی کو اس کی حالت کی درستگی کے واسطے یہ چابی دی گئی ہے کہ وہ دیکھے کہ جو کام میں کرنے لگا ہوں کل اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔اور دوسری چابی یہ بتائی ہے کہ تم جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر حال سے خبردار ہے۔جو لوگ باہمی لوگوں میں جنگ کراتے ہیں میرا دل ان سے دکھتا ہے اور کباب ہوتا ہے۔ایسے لوگ سوچیں کہ انہیں کیا نتیجہ ملے گا۔میں تو اپنے دل کو ٹٹولتا ہوں تو لڑانے والوں کے لیے بددعا ہی نکلتی ہے۔معلوم نہیں کہ ان کو کیا نفع ہوگا۔اللہ تعالیٰ کا فضل، کرم، رحم اور غریب نوازی ہو تو یہ باتیں تمہیں فائدہ دے سکتی ہیں ورنہ بڑا دفتر بھی بیکار ہے۔ایک شاعر کہتا ہے ؎ مجلس وعظ رفتنت ہوس است مرگ ہمسایہ وعظ تو بس است (ماخوذ از ’’اخبار قادیان‘‘ البدر جلد۱۰ نمبر۴۶،۴۷ مورخہ ۱۲؍اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحہ۲)