ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 425
شیرازۂ وحدت قائم رکھنے والا وجود تم شکر کرو کہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے۔اتفاق بڑی نعمت ہے اور یہ مشکل سے حاصل ہوتا ہے۔یہ خدا کا فضل ہے کہ تم کو ایسا شخص دے دیا جو شیرازہ وحدت قائم رکھے جاتا ہے۔وہ نہ تو جوان ہے اور نہ اس کے علوم میں اتنی وسعت جتنی اس زمانہ میں چاہیئے۔لیکن خدا نے تو موسیٰ کے عصا سے جو بے جان لکڑی تھی اتنا بڑا کام لے لیا تھا کہ فرعونیت کا قلع قمع ہوگیا۔اور میں تو اللہ کے فضل سے انسان ہوں۔پس کیا عجیب ہے کہ خدا مجھ سے یہ کام لے لے۔تم اختلافات اور تفرقہ اندازی سے بچو۔نکتہ چینی میں حد سے بڑھ جانا بڑا خطرناک ہے۔اللہ سے ڈرو۔اللہ کی توفیق سے سب کچھ ہوگا۔۶ ؍اگست ۱۹۱۱ء حضرت ابراہیم ؑ کی مقبولیت فرمایا۔حضرت ابراہیم خدا کے بڑے پیارے بندوں میں تھے اور اپنی ذات میں کمالات کے جامع تھے۔ہمیں تو ان کے والد کا نام بھی کسی صحیح روایت سے معلوم نہیں۔پھر بھی ان کی مقبولیت کا یہ حال ہے کہ تمام یورپ، تمام امریکہ، تمام مسلمان، تمام عرب، یہود، مجوسی ان کی عظمت کے قائل ہیں۔کوئی بڑا ہی بدبخت ہو جو منکر ہو۔بعض اولیاء و انبیاء کو عجیب مقبولیت ہے۔یہ بھی خدا کی ایک شان ہے۔سید عبدالقادر جیلانی ؒ کو برا کہنے والے بہت کم ہیں۔ہاں رافضی ہوں تو ہوں۔سچ بولنا بڑا وصف ہے فرمایا۔سچ بولنا بڑا وصف ہے۔یہ بڑا ہی کٹھن راستہ ہے۔آٹھ پہر میں اس بات کی طرف بھی غور کرو کہ تم نے کہاں تک سچ بولا ہے۔میں ایمان رکھتا ہوں کہ جس نے زبان پر قابو پایا اس نے بہت سے عیوب پر قابو پالیا۔نبی کے معنے فرمایا۔نبی کے معنے خدا سے خبر پاکر اطلاع دینے والا اور بہت ہی بڑائی والا ہے۔فرمایا۔جس قدر لوگ اپنے آرام کی فکرکرتے ہیں اگر کچھ دیر اس بات میں بھی لگائیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے۔