ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 426
حضرت ابراہیم ؑ پر الٰہی افضال فرمایا۔حضرت ابراہیم کے اب نے دو باتیں فرمائیں۔(۱)(مریم:۴۷) (۲)(مریم:۴۷) میں تجھے سخت سست کہوں گا۔اور مجھ سے الگ ہوجا۔چونکہ آپ نے خدا کے لیے ایسا کیا اس لیے اللہ نے اس کے عوض (مریم:۵۰) فرمایا۔یعنے حضرت اسحق و حضرت یعقوب ایسے برگزیدہ دیئے۔اور سخت زبانی کے مقابل پر(مریم:۵۱) فرمایا۔یعنے ان کا ذکر جمیل دنیا میں کردیا۔مومن کے تین وصف فرمایا۔مومن میں یہ تین وصف تو ضرور ہوں۔امر بالمعروف ہو۔نہی عن المنکر۔راستباز ہو۔دائیں ہاتھ کے تین نام اور ان کے مطالب فرمایا۔دائیں ہاتھ سے نیک کام کرنے کا حکم ہے۔اس کے تین نام ہیں۔سیدھا ہاتھ، راست۔یمین۔اس کا مطلب یہ ہے کہ راستی سے لو اور راستی سے دو۔سیدھے طور پر کام کرو۔سیدھے طریق پر لو۔یمن و برکت کے طریق پر لو۔اور یمن و برکت کے طریق سے دو۔تنہائی فرمایا۔انسان کے لیے تنہائی کبھی یمن و برکت کا موجب نہیں ہوتی۔خَلْف خَلَف فرمایا۔خَلْف برے معنوں میں آتا ہے اور خَلَف کا اطلاق اچھے پر ہوتا ہے۔مفسرین کا غلط طریق تفسیر فرمایا۔حضرت جبرائیل سے ایک دفعہ حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پوچھا تم ہر روز کیوں نہیں آتے تو انہوں نے حسب حال یہ آیت پڑھ دی۔(مریم:۶۵) اب بعض مفسرین نے اس سے یہ سمجھ کر کہ یہ خاص جبرائیل کے لیے ہی ہے مشکلات میں پڑے ہیں۔یہ طریق تفسیر ٹھیک نہیں۔اس رکوع میں تو جنتیوں کا ذکر ہے۔وہی کہتے ہیں کہ ہم جنت میں اللہ کے حکم سے ہی پہنچے ہیں۔