ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 423 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 423

(التوبۃ:۹۲) اب اس کے یہ معنے تو نہیں کہ ان لوگوں نے درخواست کی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں اپنی گود میں اٹھا لیں بلکہ سواری مہیا کرنے کے معنے ہیں۔مریمؑ کو اختِ ہارون کہنے سے مراد فرمایا۔(مریم:۲۸) سے مراد عجیب امر لائی ہو۔اور کیوں ایسا نہ ہو (وہ کہتے ہیں) تیری ماں بھی نیک پارسا تھی، تیرا باپ بھی اچھا آدمی تھا۔اچھوں کے اچھے ہوتے ہیں۔اختِ ہارون اس لیے فرمایا کہ وہ ہارون کی قوم میں سے تھیں۔جیسے قریش۔راجپوت۔حضرت عیسیٰؑ کا ذکر خیر فرمایا۔(مریم:۳۰) حقارت سے ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو کل کا لونڈا ہے اس سے کیا بات کریں۔اس کے دودھ کے دانت ہیں۔(مریم:۳۱) اس بات پر قرینہ ہے کہ آپ اس وقت بچے نہ تھے۔اختلاف سے بچو (الزخرف:۶۶) پر فرمایا کہ تم میں اگر اس قسم کی بحثیں ہوں کہ خلیفہ اور فلاں کے کیا تعلقات ہیں اور پھر اس پر فیصلہ کرنے لگ جاؤ تو مجھے سخت رنج پہنچتا ہے۔تم مجھے خلیفۃ المسیح کہتے ہو۔میں تو اس خطاب پر کبھی پھولا نہیں بلکہ اپنی قلم سے کبھی لکھا بھی نہیں۔میں تو اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس بیہودہ بحثیں کرنے والے لوگوں کو اپنی جماعت میں نہیں سمجھتا۔میں تمام جماعت کے لیے دعا کرتا ہوں مگر ایسے لوگوں کے لیے دعا بھی پسند نہیں کرتا۔ان کو کیا حق ہے کہ تفرقہ اندازی کی باتیں کریں۔آگ پہلے دیا سلائی سے پیدا ہوتی ہے مگر آخرکار گھر پھر محلہ پھر شہر کے شہر جلادیتی ہے۔خلیفہ خدا بناتا ہے ایسے لوگ اگر میری مدد کے خیال سے ایسا کرتے ہیں تو سن رکھیں کہ میں ان کی مدد پر تھوکتا بھی نہیں۔اگر مخالفت میں کرتے ہیں تو وہ خدا سے جاکر کہیں جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔سنو!