ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 422 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 422

میں تجھے اس سے بہتر شے بتلاتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد سبحان اللہ ۳۳ بار، الحمدللہ ۳۳ بار، اللہ اکبر ۳۳بار اور اس کے بعد لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھ لیا جاوے۔اور سونے کے وقت بھی۔جن لوگوں کا میں معتقد ہوں ان میں سے ایک نے لکھا ہے کہ اس میں سرّ یہ تھا کہ ذکراللہ سے ضعف گھٹ جائے گا اور پھر یہ شکایت پیدا نہ ہوگی۔محراب فرمایا۔مومن کی خلوت گاہ شیطان سے لڑائی کرنے کا ذریعہ ہے اس لیے اسے محراب کہتے ہیں۔۵؍اگست ۱۹۱۱ء مشکلات کے بعد آسانیاں سورہ مریم رکوع۲ کا درس دیتے ہوئے فرمایا۔پہلے حضرت زکریا کی دعاؤں کا ذکر کیا۔پھر مریم کا کہ کس طرح مشکلات کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں آسانیاں دیں۔اسی طرح رسول کریم کو تسلی دیتا ہے کہ دین اسلام ان مشکلات سے نکل جائے گا۔مومنوں کو چاہیئے کہ اللہ پر بڑی بڑی امیدیں رکھیں۔فرمایا۔(مریم:۱۷) کے معنے ہیں فراخ مکان جس میں دھوپ ہوا خوب لگے۔کوئی نام تجویز کرنا غلط بات ہے۔موت کی دعا فرمایا۔(مریم:۲۴)موت کی دعا منع ہے۔اس کے معنے ہیں میں بے ہوش ہوگئی ہوتی۔فرمایا۔(مریم:۲۵) یعنی تیرے نیچے ایک سردار ہے۔قرآن مجید تاریخ کی کتاب نہیں فرمایا۔قرآن مجید کوئی تاریخ کی کتاب نہیں کہ مسلسل واقعات کا ذکر کرے جیسے پیچھے (مریم:۸) کے بعد  (مریم:۱۳) فرما دیا اور درمیانی واقعات کا ذکر نہیں فرمایا۔ایسا ہی یہاں (مریم:۲۸) فرما دیا۔اور یہاں مصر سے واپس آنے کا ذکر ہے۔(مریم:۲۸) کے یہ معنے نہیں کہ گود میں اٹھائے لائی بلکہ سوار کرکے لائی۔دوسرے مقام پر یہ محاورہ قرآن مجید میں موجود ہے۔