ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 402 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 402

؍جولائی ۱۹۱۱ء انبیاء کرام کا ذات الٰہی کا ادب فرمایا۔انبیاء کرام ذات الٰہی کا بہت ادب کرتے ہیں۔ابوالانبیاء خلیل الرحمن حضرت ابراہیم فرماتے ہیں۔(الشعراء:۸۰،۸۱)۔کھانا کھلانے اور پانی پلانے کو تو خدا کی طرف منسوب کیا ہے اور مرض کو اپنی طرف۔ایسا ہی سورہ کہف میں ایک ولی اللہ نے کشتی کا عیب ناک کرنا اپنی طرف منسوب کیا ہے۔(الکھف:۸۰) غرض انبیاء کا مذہب یہ ہے کہ وَالشَّرُّ لَیْسَ اِلَیْکَ۔محبتِ قرآن فرمایا۔مجھے قرآن مجید سے محبت ہے اور بہت محبت ہے۔قرآن مجید میری غذا ہے۔میں سخت کمزور ہوتا ہوں قرآن مجید پڑھتے پڑھتے مجھے طاقت آجاتی ہے۔فرمایا۔بچپن سے خدا نے مجھے اس دین پر چلایا ہے جس پر میں اب ہوں۔اور میں چاہتا ہوں کہ اسی پر میرا خاتمہ ہو۔عقلی دلائل فرمایا۔مجھے خدا ہمیشہ قرآن سے عقلی دلائل سمجھاتا ہے۔یہ اس کا فضل ہے۔قرآن اور اختلاف فرمایا۔قرآن مجید دنیا میں سے اختلاف دور کرنے کے لیے آیا۔افسوس ہے کہ بعض بدبخت سمجھتے ہیں قرآن میں اختلاف ہے۔حالانکہ قرآن مجید اختلافی مسائل میں ایک فیصلہ بتاتا ہے۔پھر اختلاف مٹا کر اس راہ پر چلاتا ہے جس پر چلنے سے خدا راضی ہو۔پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے خدا کی رحمتوں سے انسان مالا مال ہوجاتا ہے۔شہد کے نام فرمایا۔عربی میں چار سو نام شہد کا ہے۔وحی الٰہی فرمایا۔جیسے بارش ہو تو زمین سے روئیدگی نکلتی ہے اسی طرح جب وحی آسمانی کا نزول دل پر ہو تو عجیب عجیب معارف و حقائق کھلتے ہیں۔فرمایا کہ جب مکھی کے پیٹ سے وحی الٰہی کے سبب شہد جیسی نافع چیز نکلتی ہے تو پھر انبیاء کے