ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 401 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 401

اَلْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ مَا نَہَی اللّٰہُ عَنْہُ (صحیح بخاری کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون بلسانہ و یدہ)۔فرمایا۔اللہ کی رضا کے لیے کوئی چیز چھوڑ دی جائے تو اللہ اس سے بہتر بدلہ دیتا ہے۔حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی اللہ عنہم نے جو کچھ چھوڑا اس کا بہتر سے بہتر بدلہ پایا۔اسی ہجرت کا اجر ہے کہ اب تک ان کی قوم معزز سمجھی جاتی ہے۔قرآنی نام ذکر فرمایا۔قرآن نے جو کچھ بتایا ہے غور کریں تو انسان کا دل، اس کا فہم، اس کی روح اس کو مانتی ہے صرف بھولی ہوئی بات یاد کرائی جاتی ہے۔اسی لیے قرآن کا نام ذکر ہے۔(النحل:۴۴)کے نعوذ باللہ یہ معنے کہ عیسائیوں اور یہودیوں سے پوچھو بالکل غلط ہیں۔ان کو کیا معلوم۔پیمانہ لبریز ہونے پر الٰہی پکڑ فرمایا۔انسان حرام خوری کرتا ہے اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔اسے مگر بد نتیجہ نظر نہیں آتا تو وہ دلیر ہوجاتا ہے مگر جب پیمانہ لبریز ہوتا ہے تو فوراً پکڑا جاتا ہے۔ظاہر و باطن فرمایا۔ظاہر سے باطن کی طرف جانا مسلمانوں کا معمول نہیں رہا۔بلکہ بعض تو یہاں تک کہتے ہیں کہ دل صاف چاہئیں اعمال خواہ کیسے ہوں۔یہ ان کی غلطی ہے۔انگریزوں پر تعجب فرمایا۔انگریزوں کی صناعیاں (ریل، ہوائی جہاز، تار) دیکھ دیکھ کر حیرت آتیہے۔مگر مجھے اس سے بڑھ کر تعجب آتا ہے ان کے اس عقیدہ پر کہ وہ عاجز و غریب انسان کو خدا یا خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں۔اختلاف کم ہونے کی وجوہ فرمایا۔اللہ کی کتاب اور نبی کریم کے ارشادات پر جو قوم متمسک ہے اس میں اختلاف کم ہے۔پھر جن میں خشیۃ اللّٰہ ہے ان میں اور بھی اختلاف کم ہے۔مشتبہ مال فرمایا۔ہر روز اپنے کھانے کا مطالعہ کرو۔کپڑے کا مطالعہ کرو۔آمدنی کا مطالعہ کرو کہ حرام تو نہیں۔مشتبہ مال ہرگز استعمال نہ کرو کیونکہ اس سے دل سیاہ ہوجاتا ہے۔دعا فرمایا۔ہم سے سوا دعا کے کیا ہوسکتا ہے۔حکومت قہری نہیں کہ زبردستی منوایا جائے۔