ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 403 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 403

ذریعے وحی کے نزول سے کیا کیا فوائد مخلوق الٰہی کو پہنچ سکتے ہیں۔فرمایا۔جیسے بھوسہ اور خون میں دودھ موجود ہے مگر اسے سوا الٰہی مشین کے کوئی نکال نہیں سکتا۔اسی طرح دنیا میں صداقتیں تو موجود ہیں مگر وہ صرف وحی کے ذریعے الگ ہوسکتی ہیں۔۵؍جولائی ۱۹۱۱ء فضیلت فرمایا۔فضیلت اگر کھانے سے ہو تو پھر ہاتھی اور ویل مچھلی کی زیادہ قدر ہو۔خدا کی خاطر کام فرمایا۔کام کرنے والا اور نہ کرنے والا ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔عرب میں امرا، فصحا، شعرا موجود تھے لیکن غور کرو کوئی ان میں سے خدا کے لیے بھی کام کرتا تھا؟ ہرگز نہیں۔برخلاف اس کے حضرت نبی کریم دن رات خدا کے کام میں مصروف رہتے۔اس کا نمونہ ہم نے اس زمانہ میں بھی دیکھا۔حضرت صاحب کا حال یہ تھا کہ سر میں چکر اور اسہال۔مگر پھر بھی بڑا کام کرتے اور اکثر میں نے آپ کی زبان سے سنا کہ زندگی کا کچھ اعتبار نہیں اور کام (دین کی تسلی) ابھی ادھورے پڑے ہیں۔الٰہی نعماء اور مخلوقِ خدا کی بہتری کے لیے کام فرمایا۔تم میں سے کوئی سعادت مند ہو جو سوچے کہ خدا نے کیا کیا نعمتیں دی ہیں اور پھر اس نے مخلوق کی بہتری اور خدا کی رضا مندی کے لیے کیا کام کیا ہے۔میں نے پاگلوں کو دیکھا ہے کبھی کسی نے کھانا کھاتے وقت بجائے منہ کے کان میں نہیں ڈالا بلکہ اپنے مطلب کے لیے خوب دانائی سے کام لیتے ہیں۔پس انسان کی اس میں کوئی خوبی نہیں کہ وہ اپنے نفس کی خواہشوں کے پورا کرنے میں ہوشیار ہو۔بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ دوسروں کی بہتری اور اللہ کے دین کی اشاعت میںکیا کام کرتا ہے۔سفر میں بیوی کی مصاحبت فرمایا۔(النحل:۸۱)میں اشارہ ہے کہ انسان سفر میں بھی اکثر بی بی کو ساتھ رکھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک التزام فرمایا کہ احد کی جنگ میں عائشہ صدیقہ اور بتول آپ کے ہمراہ تھیں۔خود ہمارے حضرت صاحب جب سفر پر جاتے اپنی بی بی کو ہمراہ لے جاتے۔(البدر جلد۱۰ نمبر۳۹ مؤرخہ ۲۷؍ جولائی ۱۹۱۱ء صفحہ۳)