ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 366 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 366

ر وہ پھر اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ شراب پیتے ہیں اور زنا کرتے ہیں۔اور لوگ کہہ دیتے ہیں کہ خلقت اندھی ہے۔اصل فرقہ مُلامتی انبیاء علیہم السلام اور ان کے اتباع کا ہے جس قدر انسان نیک ہوگا اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرے گا اسی قدر ملامت بڑھ جائے گی اور خلقت دشمن ہوجائے گی۔اپنی تبلیغ میں جب تم کھول کر سلسلہ کا ذکر کرو گے یاعیسیٰ کی خدائی اور بتوں کو خدا بنانے اور گورونانک کو اوتار قرار دیئے جانے کی مخالفت کرو گے خوانخواہ ملامت ہوگی اور لوگ دشمنی کریں گے۔حق گو سے بڑھ کر ملامتی کون ہوسکتا ہے۔اس لئے انبیاء علیہم السلام کی مخالفت ہوئی اور ان کے خلاف خطرناک منصوبے ہوئے اور انہیں ایذائیں دی گئیں یہاںتک کہ ترک وطن کرنا پڑا۔یہ ملامت ہی کا نتیجہ تھا اور یہ ملامت خلاف شریعت افعال سے پیدا نہیں ہوئی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے سے اندھی دنیا نے ان کی مخالفت کی۔مجھے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے محبت ہے۔ایک مرتبہ میں سیالکوٹ حضرت صاحب کے ساتھ گیا۔لوگوں نے کہا کہ کچھ سناؤ۔میں نے ( الحشر : ۱۹) پر وعظ کہا۔شام ہوگئی لوگ چلے گئے۔ایک آدمی نے ایک شخص سے پوچھا کہ آج نورالدین نے کیا وعظ کیا۔اس نے کہا کہ پر تقریر کی ہے۔وہ بولا کہ نورالدین منافق ہے اس نے مرزا صاحب کا ذکر نہیں کیا۔لوگوں نے یہ بات مجھے پہنچائی۔میں نے کہا کہ میں تو ملامتی ہوں۔اس نے ایسا کہا تو کیا ہوا ؟ممکن ہے اس کے دوستوں نے ملامت کی ہوگی۔وہاں تو سب احمدی تھے پھر اگر میں نے مرزا صاحب کا ذکر نہیں کیا تھا تو کس کے خوف سے۔مگر نہیں انبیاء علیہم السلام کے سچے اتباع ملامتی ہوتے ہیں۔ان کی غرض لوگوں کو خوش کرنا اور اپنی تعریف سننا نہیں ہوتی۔میںنے انہیں یہ بھی کہا کہ اسے یہ آیت سنادو۔…  الاٰیۃ(الزمر : ۴۶)۔کیا مطلب کہ اگر جناب الٰہی کا ذکرکیا جاوے تو بعض بے ایمان دل برا مناتے ہیں۔کشمیر میں اگر واعظ شیخ ہمدانی اور سید عبدالقادر جیلانی ـؒ کا ذکر نہ کریں تو لوگ دشمن ہوجاتے