ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 367 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 367

ہیں۔وہاں خطبہ میں بھی یہ ذکر لازمی ہے۔چشتی ہوں تو خواجہ معین الدین چشتی کا اور نقشبندیوں میں خواجہ نقشبند کا اور قادریوں میں عبدالقادر اور شیعہ میں امام حسین ؓ کا ذکر ہوتو یہ لوگ خوش ہوتے۔مگر یہ خوشی تو اللہ کے سوا مخلوق کے ذکر سے ہوئی ایسے کو کہیں گے کہ یہ بڑا مومن ہے۔ان کی عظمت اس کے دل میں ہے۔مگر مومن حقیقی امر بالمعروف کرناچاہتا ہے اس کے دل میں محض خدا تعالیٰ کی عظمت ہوتی ہے۔غرض ملامتی اس کو نہیںکہتے جو ننگ دھڑنگ پھرے۔نبیوں کی اتباع کئے جاؤ اسی کی ضرورت ہے اور نبی کی اتباع ہی کا حکم ہے۔رہی ریا اس کے متعلق میں تمہیں دو فقیروں کا واقعہ سناتا ہوں جن کو میری آنکھوں نے دیکھاہے۔ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو بھی ریا آتی ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ کیا ان جانوروں، بیلوں اور گھوڑوں کے سامنے نماز پڑھتے ہوئے تمہیں ریا آتی ہے۔اس نے کہا نہیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ ہماری نماز کے وقت لوگوں کی حقیقت بیلوں سے زیادہ نہیں تو ہمیں ریا کیوں آئے؟ ایک سرکاری حکم ہے مثلاً یہ کہ نماز پڑھو۔پس تمہارا کام یہ ہے کہ اس کی تعمیل کرو نفس کہتا ہے لوگ دیکھتے ہیں۔بہت اچھا دیکھیں ہمیں اس سے کیا ہم نے صرف تعمیل ارشاد ربانی کرنی ہے۔شیخ غزالی صاحب بڑا تشدد کرتے ہیں ان کی کتابوں کو دیکھا جاوے تو وہ بہت ڈراتے ہیں۔شیخ محی الدین ابن عربی ایسی امید دلاتے ہیں کہ بہشت میں ہی چلے جانا ہے۔قرآن مجید کو آپ پڑھیں اور اس پر عمل کریں اور تدبر کریں۔اوّل وقت نماز پڑھنی چاہیے اور کبھی اس کی پرواہ نہیں ہونی چاہیے کہ کوئی دیکھتا ہے یا کیا کہتا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ سب سے بڑھ کر ملامتی انبیاء ہوتے ہیں آنحضرت ﷺ کو کیا کچھ کہا گیا کاہن، شاعر، مجنون، ساحر ، (المومنون : ۲۵)پھر اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا۔حضرت صاحب کے حق میں لوگوں کے فتوے دیکھے اور سامنے ان کو کہتے سنا۔پھر اپنے حق میں گالیاں سنیں اور فتوے دیکھے۔مگر میں اس راہ کو مبارک سمجھتا ہوں کیونکہ یہ انبیاء کی اطاعت کی راہ ہے اور نبی کی اتباع میں سب سے بڑی ملامت ہے۔برخلاف اس کے جو ملامتی آپ بنے ہیں۔میں