ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 335
اور اپنی تعظیم اور تکریم کی نسبت فرماتے ہیں۔لَا تَقُوْمُوْا کَمَا یَقُوْمُ الْاَعَاجِمُ۱؎(کنزالعمال الجزء نمبر۹ حدیث نمبر۲۵۷۵۹)۔ایک دفعہ کا ذکر ہے آپ بیمار تھے۔کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکے بیٹھ گئے۔صحابہ جو پیچھے نماز کو کھڑے تھے انہیں اشارہ کیا تم سب بیٹھ جاؤ ایسا نہ ہو یہ بات میری خاص تعظیم خیال کی جاوے۔شرک کی گرفتار قومیں نئی نئی توحید میں داخل ہوئیں ایک نے آکر کہا شاہان فارس اور روم کو ان کی رعایا سجدہ کرتی ہے کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا۔سجدہ صرف اللہ تعالیٰ کوکرو کسی دوسرے کو سجدہ نہ کرو۔وہی قومیں جن کے رگ و ریشہ میں شرک رچا ہوا تھا اور جو مافوق الفطرت طاقتیں مقربان بارگاہ حق کی ذات میں یقین کرتی تھیں ان کو بار بار سنایا۔ ۲؎(الانعام:۵۱)۔۳؎ (الانعام:۵۹،۶۰)۔ایک شخص نے صرف اتنا ہی کہا۔مَا شَائَ اللّٰہُ وَ شِئْتَ تو آپ گھبرائے اور فرمایا۔جَعَلْتَنِیْ لِلّٰہِ نِدًّاکیا تو نے مجھے خدا کا شریک ٹھہرایا؟ شرک کے گرفتار توحید میں آتے ہیں۔خدائی بپتسما پاتے ہیں۔ (البقرۃ:۱۳۹) (ترجمہ:رنگ اللہ کا اور کون اچھا ہے اللہ سے رنگ ؎میں)میں رنگین ہوتے ہیں ایسا نہ ہو اپنے ہادی کو نافع و ضار سمجھ بیٹھیں۔ان کو حکم ہوتا ہے۔ ۱؎ ایسے مت کھڑے رہو جیسے اور قوموں میں رواج ہے۔۲؎ تو کہہ میں نہیں کہتا تم سے کہ مجھ پاس ہیں خزانے اللہ کے نہ میں جانوں غیب کی بات اور نہ میں کہوں تم سے کہ میں فرشتہ ہوں۔۳؎ تو کہہ اگر میرے پاس ہو جس کی شتابی کرتے ہو تو فیصل ہوچکے کام میرے تمہارے بیچ اور اللہ کو خوب معلوم ہیں بے انصاف۔اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی نہیں جانتا ان کو کوئی اس کے سوا۔۴؎ اور حدیث میں آیا ہے جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا۔(بخاری کتاب الصلوٰۃ باب قول النبی ؐ جعلتلی الارض مسجدًا) میرے لیے زمین مسجد بنائی گئی۔پس مساجد کے معنی زمینیں ہیں۔