ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 334
ان جوابات کے بعد ہرقل نے کہا۔مجھے یقین ہوگیا وہ سچا نبی ہے۔یہی باتیں انبیاء کے نشان ہیں۔جب مکّہ کے رؤسا نے جمع ہوکر آپ کے مربی چچا ابوطالب سے کہا کہ وہ محمد صاحب کو نئے دین کی وعظ سے روکے یا اس کی حفاظت سے دست کش ہو۔ابو طالب نے بھی قومی غیظ و غضب کو پسند نہ کیا اور چاہا کہ محمد صاحب توحید کے وعظ سے رک جاویں تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب دیا کہ اے چچا ! اگر یہ لوگ آفتاب کو میرے داہنے اور ماہتاب کو بائیں لائیں اور مجھے اس کام کے ترک کرنے کو کہیں تو یقیناً یقیناً میں باز نہ رہوں گا جب تک دین الٰہی ظاہر نہ ہو یا میں ہلاک نہ ہوجاؤں۔ایک بار اہل مکّہ نے جمع ہوکر کہا کہ اگر تجھے دولت کی خواہش ہو تو ہم مال جمع کردیتے ہیں، اگر ریاست کا خیال ہے تو ہم تجھے رئیس بنانے کو تیار ہیںوغیرہ وغیرہ تو آپ نے سورۂ حٰمٓ تنزیل سنائی جس میں لکھا تھا۔ (حٰم السجدۃ:۷)۔اور یہ بھی فرمایا۔مَا……… اَطْلُبُ اَمْوَالَکُمْ وَ لَا الشَّرْفَ فِیْکُمْ وَلَا الْمَلْکُ عَلَیْکُمْ۔(سیرۃ ابن ھشام، ذکر سرد النسب الزکی،حدیث رؤساء قریش مع رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وس