ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 336
۔ْ ۱؎(الجن:۱۹تا۲۳)جس نے آکر نَسْتَشْفِعُ بِاللّٰہِ اِلَیْکَ۲؎ (سنن ابی داؤدکتاب السنۃ باب فی الجھمیۃ) کہا اس پر غضب طاری ہوا۔موجودہ زمانہ یوں گزرا، حالت مرض ، موت میں آگے کی تیاری ہوتی ہے۔اس میں دیکھو توحید کی طرف کیا توجہ ہے۔لَعَنَ اللّٰہُ الْیَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰی اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ ۳؎ (صحیح بخاری ،کتاب الجنائزباب ماجاء فی قبر النبی ﷺ)لَا تُطْرُوْنِیْ کَمَا اَطْرَتِ النَّصٰریٰ(عیسیٰ) ابْنَ مَرْیَمَ۴؎ ( صحیح بخاری ،کتاب احادیث الا نبیاء باب واذکر فی الکتاب مریم)۔صحابہ نے توحید کا ایسا خیال رکھا کہ آپ کی قبر کو بالکل بند کردیا تا کہ نظر بھی نہ آوے اور سجدہ گاہ نہ بنے۔ذاتی منافع کا حال سنو۔اپنے اور اپنی تمام قوم بنو ہاشم پر صدقات کو حرام کردیا۔مرنے کے ایام میں اتنا پاس نہیں کہ آخر عمر میں بقدر ایام مرض آرام سے کھاتے پیتے۔ان دنوں کے لحاظ سے ضروری اور نہایت ضروری سامانِ حرب زرہ ہوتی ہے وہ بھی چند اثار جو کے دانے کے عوض میں ایک یہودی کے پاس رہن تھی۔ایک صاع غلہ (آٹھ سیر کے قریب)گھر میں رات کو نہ رہتا حالانکہ آپ کی نوبیبیاں تھیں۔کھلی اور سادہ چٹائی پر بسترا تھا۔کھجور اور پانی پر بسر اوقات تھی۔باہمہ کثرت عیال اور ۱؎ اور یہ کہ مسجد کے ہاتھ پانوں حق اللہ کا ہے سو مت پکارو اللہ کے ساتھ کسی کو اور یہ کہ جب کھڑا ہو اللہ کا بندہ اس کو پکار تا لوگ کرنے لگتے ہیںاس پر ٹھٹھا تو کہہ میں تو یہی پکارتا ہوں اپنے رب کو اور شریک نہیں کرتا اس کا کسی کو۔توکہہ میرے ہاتھ میں نہیں تمہارا برا نہ راہ پر لانا تو کہہ مجھ کو نہ بچاوے گا اللہ کے ہاتھ سے کوئی اور نہ پاؤں گا اس کے سوا کہیں سرک رہنے کی جگہ۔۲؎ سپارشی لاتے ہیں اللہ کو تیری طرف۔۳؎ یہود اور نصاریٰ پر لعنت ہو انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنایا۔۴؎ میری بڑائی ایسی نہ کیجیو جیسے نصاریٰ نے مسیح ابن مریم سے کی۔