ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 325 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 325

نمونے پیش کئے تھے مگر میں سمجھتا ہوں کہ جس قدر زیادہ ہوں وہ کم ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح کے دل میں عورتوں کی ہمدردی اور اصلاح کے لئے ایک خاص جوش ہے اور یہ امر آپ کے ان خطبوں سے جو نکاح کے موقعہ پر آپ پڑھتے ہیں بخوبی ظاہر ہے۔کبھی غذا کے متعلق کوئی امر پیش آیا تو آپ نے والدہ عبد الحی کی تجویز کو مقدم رکھا۔آج ۲۴؍ فروری۱۹۱۱ء کو آپ نے قبل عصر پینے کے لئے جنجر طلب کیا۔مگر اندر سے کہلا بھیجا کہ قہوہ اور کچھ کھانے کو دیں گے۔حضرت نے فرمایا کہ اگر اس وقت کچھ کھایا تو رات کو نہیں کھایا جائے گا۔میں صرف تھوڑا سا پانی پیتا ہوں۔مگر والدہ عبد الحی نے جو تیار کیا تھا اسے پلانا چاہا اور پھر کہا کہ نہیں کچھ قہوہ اور تھوڑا سا کیک کھا لو۔اس پر فرمایا۔اچھا۔یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے اور بعض دل وماغ اس کو غیر ضروری اور فضول سمجھیں۔مگر نہیں اس میں کتنا بڑا قیمتی سبق اپنی بیوی کی دلداری کا ہے جس کے ذریعہ گھر جنت کا نمونہ ہو جاتا ہے۔اسی ضمن میں مجھے یاد آیا کہ ایک موقعہ پر حضرت نے مجھے فرمایا کہ میں عورتوں کو درس دے رہا تھا اور میرے درس میں یہ آیت آئی۔الآیۃ۔(البقرۃ:۳۶) فرمایا۔میرے دل میں اس وقت کے حسب حال اس کا یہ مفہوم ڈالا گیا کہ میاں بیوی کو جنت میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے کہ تم دونوں مل کر جنت میں رہو اور یہ جنت اس وقت جنت رہ سکتا ہے جب تک تم آپس میں جھگڑا نہ کرو۔جہاں میاں بیوی میں تنازعات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے پھر وہ گھر جنت نہیں بلکہ دوزخ کا نمونہ ہو جاتا ہے۔اس لئے چاہئے کہ میاں بیوی باہم نہایت خوشی اور آرام سے مل کر رہیں جھگڑا نہ کریں ایک دوسرے کی دل شکنی نہ کریں۔اور مرد خصوصیت سے عورتوں کی بعض کمزوریوں پر برداشت اور حوصلہ سے کام لیں۔اخلاص کی قدر فرمایا۔میں شروع سے دیکھتا رہا ہوں کہ انگریزی ادویات نے مجھے کوئی فائدہ نہیں دیا اور نہ انگریزی غذائیں مفید ہوئیں ہر چند خدا تعالیٰ ہی کے فضل سے ہی مفید اور بابرکت ہو سکتی