ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 324 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 324

غرض فرمایاکہ یہ کیا کم فائدہ ہے۔پھر میرا اپنا ایمان خدا تعالیٰ پر بہت بڑھ گیا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ وہ بدوں اسباب کس طرح پر میری پرورش کرتا ہے۔اس کی غریب نوازیوں کے عجیب عجیب مشاہدات میں نے اس بیماری میں کئے ہیں جن کو میں گن بھی نہیں سکتا۔قرآن مجید پر میرا ایمان بہت بڑھا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بہت بڑھ گئی ہے۔بیماری میں بعض بعض وقت سخت گھبرا اور اضطراب ہوتا ہے اور مجھے بھی ہوا۔ایسے وقتوں میں ایمان کا قائم رہنا صرف خدا تعالیٰ ہی کے فضل پر موقوف ہے۔میں نے ان اضطراب کی گھڑیوں میں بھی خوب غور کی اور دیکھا تو میں نے اپنے آپ کو خدا کے فضل سے خوش پا یا اس لئے کہ میں دیکھتا تھا۔میرا دل اپنے مولیٰ سے خوش ہے! اور وہ ان تکالیف میں بھی اس کے فضل کو محسوس کرتا ہے۔ایمان کا دینا اور اس کا بڑھانا اور پھر اسے قائم رکھنا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے فضل پر موقوف ہے۔اسی نے مجھے ایمان دیا اور اسی نے اس ذریعہ سے بڑھایا اسی کے فضل سے میں یقین کرتا ہوں کہ وہ قائم رکھے گا۔فرمایا۔اس بیماری میں اللہ تعالیٰ نے میرے رزق کو بہت بسط کیا اور جینی لوگ جن کو کوئی تعلق نہیں انہوں نے بھی بدوں کسی تحریک اور تعلق کے روپیہ بھیجا۔یہ سب خدا تعالیٰ کے فضل کے عجائبات ہیں اور اس قدر ہیں کہ کوئی گن نہیں سکتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عجیب عجیب کمالات میں نے مشاہدہ کئے ہیں اور ان کو دیکھ دیکھ کر بے اختیار زبان سے نکلتا ہے۔زفرق تا بقدم ہر کجا کہ مے نگرم کرشمہ دامن دل میکشد کہ جا اینجاست حسن معاشرت کا عجیب پہلو اس سے پہلے بھی اسی سلسلہ مضامین میں میں نے حضرت خلیفۃ المسیح کے حسن معاشرت کے بعض