ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 326
ہیں۔مگر میں نے انگریزی ادویات کو ترک نہیں کیا اس واسطے کہ ڈاکٹر لوگ اخلاص اور ہمدردی سے دیتے تھے اور فائدہ ہونا تو ان کے اختیار میں نہ تھا۔ہم اور ہمارے مخالفوں میں فرق ۲۷؍فروری ۱۹۱۱ء کو قبل دوپہر آپ کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ کیا احمدیوں اور غیر احمدیوں میں کوئی فروعی اختلاف ہے؟ حضرت خلیفۃ المسیح نے جو کچھ اس کا جواب دیا میں اس کے مفہوم کو اپنے حافظہ سے اپنے الفاظ میں لکھتا ہوں۔فرمایا۔یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے۔کیونکہ جس طرح پر وہ نماز پڑھتے ہیں ہم بھی اسی طرح پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ، حج اور روزوں کے متعلق ہمارے اور ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔میری سمجھ میں ہمارے اور ان کے درمیان اصولی فرق ہے۔اور وہ یہ ہے کہ ایمان کے لئے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو اس کے ملائکہ پر، کتب سماویہ پر اور رسل پر، خیر و شر کے اندازوں پر اور بعث بعد الموت پر۔اب غور طلب امر یہ ہے کہ ہمارے مخالف بھی یہی مانتے ہیں اور اس کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن یہاں سے ہی ہمارا اور ان کا اختلاف شروع ہو جاتا ہے۔ایمان بالرسل اگر نہ ہو تو کوئی شخص مومن مسلمان نہیں ہو سکتا۔اور اس ایمان بالرسل میں کوئی تخصیص عام ہے خواہ وہ نبی پہلے آئے یا بعد میں آئے۔ہندوستان میں ہوں یا کسی اور ملک میں۔کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب کی ماموریت کے منکر ہیں۔اب بتاؤ کہ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔قرآن مجید میں تو لکھا ہے (البقرۃ:۲۸۶) لیکن حضرت مسیح موعودؑ کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔رہی یہ بات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید میں خاتم النبیین فرمایا۔ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہمارا یہ مذہب ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین یقین نہ کرے تو بالاتفاق کافر ہے۔یہ جدا امر ہے کہ ہم اس کے کیا معنی کرتے ہیں اور ہمارے مخالف کیا۔اس خاتم النبیین کی بحث